LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت چین کا امریکا سے خود مختار ریاستوں میں آزادانہ انتخابات میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ

آسٹریلیا بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا

Web Desk

1 December 2025

آسٹریلیا نے والدین کے بجائے سوشل میڈیا کمپنیوں جن میں میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں، کو پابند بنایا ہے کہ وہ 10 دسمبر سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ 16 سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہ بنا سکے، خلاف وزری کی صورت میں ان کمپنیوں کو بھاری جرمانے دینے ہوں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون بچوں کو ایسے الگورتھمز سے بچانے کے لیے ضروری ہے جو انہیں نقصان دہ مواد دکھاتے ہیں۔حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر بالغ آسٹریلوی شہری اس پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی سے بچے انٹرنیٹ کی غیر منظم اور خطرناک سائٹس کی طرف جا سکتے ہیں۔امریکی سرجن جنرل سمیت ذہنی صحت کے بیشتر ماہرین کے مطابق کم عمری یا کچی عمر میں سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال دماغ کے اُن حصوں میں تبدیلیوں لاسکتا ہے جو سیکھنے کے عمل سے متعلق ہیں۔ ساتھ ہی یہ نفس کو قابو رکھنے، سماجی رویّے، جذباتی نظم و ضبط اور سماجی سزا و انعام کے احساس پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔اس قانون کو آسٹریلیا کی اعلیٰ عدالت میں 15 سال کے دو بچوں نے چیلنج کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اُن سے آزادانہ کمیونیکیشن اور خصوصاً سیاسی معلومات تک رسائی کے حق کو چھینتی ہے۔بعض مخالفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا، گیمنگ اور اسکرین ٹائم کے حوالے سے مسائل موجود ہیں لیکن ان سے تعلیم اور ابلاغ جیسے بہت سے فائدے بھی ہیں۔قانونی چیلنج کے باوجود آسٹریلیا کی وزیر مواصلات نے کہا کہ حکومت دباؤ میں نہیں آئے گی اور بچوں کو محفوظ رکھنے میں آسٹریلوی والدین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔