LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر کیلیفورنیا اسٹیٹ اسمبلی میں پاک امریکا تعلقات کو خراج تحسین کی تاریخی قرارداد منظور امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنےکی کوشش پر ایران کی سخت ردعمل کی دھمکی عراق نے اکتوبر تک غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنےکا عزم ظاہر کر دیا ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئےکام کرنےکے الزام میں خاتون صحافی کو 15 سال قید کی سزا سنادی انقرہ میں ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی سازش کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے، ترک حکام امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ کانگریس رکنِ الہان عمر نے مینیسوٹا سے ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی: طارق فضل چودھری

آسٹریلیا بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا

Web Desk

1 December 2025

آسٹریلیا نے والدین کے بجائے سوشل میڈیا کمپنیوں جن میں میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں، کو پابند بنایا ہے کہ وہ 10 دسمبر سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ 16 سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہ بنا سکے، خلاف وزری کی صورت میں ان کمپنیوں کو بھاری جرمانے دینے ہوں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون بچوں کو ایسے الگورتھمز سے بچانے کے لیے ضروری ہے جو انہیں نقصان دہ مواد دکھاتے ہیں۔حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر بالغ آسٹریلوی شہری اس پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی سے بچے انٹرنیٹ کی غیر منظم اور خطرناک سائٹس کی طرف جا سکتے ہیں۔امریکی سرجن جنرل سمیت ذہنی صحت کے بیشتر ماہرین کے مطابق کم عمری یا کچی عمر میں سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال دماغ کے اُن حصوں میں تبدیلیوں لاسکتا ہے جو سیکھنے کے عمل سے متعلق ہیں۔ ساتھ ہی یہ نفس کو قابو رکھنے، سماجی رویّے، جذباتی نظم و ضبط اور سماجی سزا و انعام کے احساس پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔اس قانون کو آسٹریلیا کی اعلیٰ عدالت میں 15 سال کے دو بچوں نے چیلنج کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اُن سے آزادانہ کمیونیکیشن اور خصوصاً سیاسی معلومات تک رسائی کے حق کو چھینتی ہے۔بعض مخالفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا، گیمنگ اور اسکرین ٹائم کے حوالے سے مسائل موجود ہیں لیکن ان سے تعلیم اور ابلاغ جیسے بہت سے فائدے بھی ہیں۔قانونی چیلنج کے باوجود آسٹریلیا کی وزیر مواصلات نے کہا کہ حکومت دباؤ میں نہیں آئے گی اور بچوں کو محفوظ رکھنے میں آسٹریلوی والدین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔