LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان,امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسحاق ڈار اور رافیل گروسی میں رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر اتفاق خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے: وزیراعظم وزیراعظم کی بارشوں، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہئے: جسٹس امین الدین خان ایران جنگ میں امریکا کو شدید عسکری اور معاشی نقصان پہنچا: امریکی محکمہ دفاع کانگو کے دو سکولوں میں آتشزدگی سے 29 طلبا جاں بحق، 300 گھر خاکستر اسرائیل کا غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر کو قتل کرنے کا دعویٰ جمہوریت کی کامیابی کیلئے قانون کی عملداری بنیادی امر ہے: مریم نواز مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے: ترک صدر پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کو سکیورٹی فراہم کر کے ذمہ داری کا ثبوت دیا: سلمان رفیق فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے حملے، 13 افراد زخمی

ایران جنگ میں امریکا کو شدید عسکری اور معاشی نقصان پہنچا: امریکی محکمہ دفاع

Web Desk

15 September 2026

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس کو پیش کی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے پہلے چار ماہ کے دوران امریکہ کو شدید عسکری اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر اب تک مجموعی طور پر تقریباً 33 ارب 40 کروڑ ڈالر اخراجات آ چکے ہیں، جن میں سے 22 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد رقم صرف استعمال شدہ گولہ بارود اور معرکہ آرائی پر صرف ہوئی۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر خطے سے 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی و سفارتی اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

رپورٹ میں عسکری نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف معرکے میں امریکی افواج نے یورپی اڈوں سے 5 ہزار سے زائد جنگی و معاون پروازیں کیں۔ تاہم، اس دوران امریکہ کے 30 جدید ڈرونز کے علاوہ ایف-15، ایف-35 اور اے-10 جیسے صفِ اول کے جنگی طیارے تباہ ہوئے۔ مزید برآں، ایرانی حملوں کے نتیجے میں بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے مرکزی لاجسٹکس سینٹر کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات کو 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق، ان بھاری نقصانات اور ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے بعد پینٹاگون نے اہم دفاعی سازوسامان اور جدید اسلحه جات کی پیداوار و خریداری کا عمل تیز کر دیا ہے۔ پینٹاگون اس وقت ہنگامی بنیادوں پر اپنے جنگی ذخائر کو دوبارہ بھرنے اور لاجسٹک نظام کو بحال کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنے باقی ماندہ عسکری وجود کو برقرار رکھا جا سکے۔