LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے حملے، 13 افراد زخمی سکیورٹی خدشات: شہزادہ ہیری نے دونوں بچوں کو اچانک سکول سے اٹھا لیا یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے: وزیراعظم کا یوم جمہوریہ پر پیغام ایران کا شرائط پوری ہونے تک امریکا سے مذاکرات سے پھر انکار تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اب ممکن نہیں رہا: ایرانی سپیکر سینٹ کام نے ایل گایا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ مسترد کردیا امریکیوں نے ایک دہشتگرد انتظامیہ قائم کر رکھی ہے: ایرانی صدر ایران کی تکنیکی اور معاشی مدد: امریکا کی روسی بینک پر پابندیاں عائد مریم نواز کو دوسرے صوبوں سے خطرہ، مجھے پنجابیوں سے خطرہ نہیں: سہیل آفریدی یمنی حوثیوں کا سعودیہ کے کنگ خالد ایئربیس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کے 300 ارب خرچ کرنے کے دعوے پر سوالات اٹھا دیئے

یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس

Web Desk

15 September 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ یمن اور اس کے اطراف بالخصوص بحیرہ احمر کی صورتِ حال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں حوثیوں کے ساتھ بھی براہِ راست رابطہ کیا جا رہا ہے۔ امریکی ریاست کنساس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر سے سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا بحیرہ احمر میں حکمت عملی کے لحاظ سے اہم “بریم جزیرے” (Bab-el-Mandeb Strait) پر حوثیوں کے مبینہ قبضے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو تحفظات یا تشویش ہے؟

اس کے جواب میں جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ اس صورتِ حال کو شدید ترین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن اس معاملے پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور خطے کے دیگر تمام متاثرہ فریقین کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ امریکی نائب صدر نے عزم ظاہر کیا کہ امریکہ علاقائی صورتِ حال کی مانیٹرنگ جاری رکھے گا اور ہر قیمت پر خطے میں امریکی تزویراتی و معاشی مفادات کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے گا۔