فضائی آلودگی آپ کی دماغی قوت کو کمزور کر رہی ہے: تحقیق
Web Desk
6 June 2026
کیلیفورنیا: جنگلاتی آگ، فوسل فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس، مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز اور زیادہ ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نہ صرف ہمارے ماحول بلکہ انسانی دماغ کے لیے بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔
امریکی یونیورسٹی ‘یو سی ڈیوس ہیلتھ’ اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والی معروف کمپنی ‘کائزر پرمینینٹے’ کے محققین کی جانب سے بدھ کے روز جاری کی گئی ایک جدید سائنسی تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے فضائی آلودگی کے انسانی اعصاب اور یادداشت پر پڑنے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا محققین نے ایسے افراد کا مینوئل ڈیٹا اکٹھا کیا جنہوں نے تقریباً 20 برس تک فضا میں موجود انتہائی باریک اور زہریلے آلودہ ذرات (Particulate Matter) کی زیادہ مقدار کا سامنا کیا تھا۔ ان افراد کی یادداشت کو پرکھنے کے لیے خصوصی ٹیسٹ لیے گئے، جن میں لوگوں سے مختلف حقائق، الفاظ اور روزمرہ کی عمومی معلومات یاد رکھنے سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ آلودگی کا شکار رہنے والے افراد کی کارکردگی ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور تھی جو زندگی بھر نسبتاً صاف فضا میں رہے تھے۔
سائنسی محققین کے مطابق، فضائی آلودگی کے انسانی دماغ پر پڑنے والے یہ منفی اثرات کوئی معمولی نہیں ہیں، بلکہ یہ اثرات تقریباً 10 سال کی قدرتی عمر رسیدگی (Aging) کے برابر تھے۔ یعنی آلودہ فضا میں رہنے والے شخص کا دماغ اپنی اصل عمر سے 10 سال زیادہ بوڑھا ہو چکا تھا۔یہ آلودگی خاص طور پر انسان کی ’سیمینٹک میموری‘ (Semantic Memory) کو شدید متاثر کرتی ہے۔ سیمینٹک میموری دراصل انسانی دماغ کی اس مروجہ صلاحیت کا نام ہے جو ہمیں روزمرہ زندگی میں مختلف معلومات، الفاظ کے ذخیرے اور ان کے مفہوم کو یاد رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
تحقیق کی سینئر مصنفہ اور یو سی ڈیوس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کیتھرین کونلون نے اس سائنسی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “سیمینٹک میموری انسان کے مینوئل گائیڈ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ معاشرے میں مؤثر گفتگو کرنے، دوسروں کی بات کو گہرائی سے سمجھنے اور روزمرہ زندگی کے تمام تر معمولات کو کامیابی سے انجام دینے کے لیے انتہائی اہم ہے۔”
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ڈیٹا سینٹرز اور فوسل فیول کے کارخانوں سے نکلنے والے دھوئیں کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا، تو مستقبل میں اعصابی اور ذہنی امراض کی پوزیشن مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
انسانی اعضا کیس: چینی شہریوں سمیت 5 ملزم جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے
26 June 2026
پنجاب میں روبوٹک سرجری کی تعلیم کا آغاز، یو ایچ ایس نے بڑا قدم اٹھا لیا
26 June 2026
جنگلی جانوروں کے علاج اور ریسکیو کیلیے پاکستان کا پہلا موبائل وائلڈ لائف کلینک
25 June 2026
سگریٹ چھوڑ کر ویپنگ اپنانا بھی آنکھوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے: تحقیق
25 June 2026
بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟
24 June 2026
پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کا عالمی ریکارڈ، 24 گھنٹے میں 10 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل
24 June 2026
ایبولا وائرس سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ!
23 June 2026
بھارت میں خطرناک بیماری کا حملہ، ایک شخص ہلاک
23 June 2026