LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ

بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

24 June 2026

بچپن میں پھلوں کے ڈبہ بند جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی ایک طویل المدت سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس جامع تحقیق کے دوران 25 سال تک 9 سے 16 سال کی عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی غذائی عادات اور صحت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے بچپن میں روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات پیتے تھے، ان میں جوانی یا ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خاموش مگر خطرناک طبی حالت ہے جس میں خون رگوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ مسئلہ دل اور گردوں کی سنگین بیماریوں، اچانک فالج (Stroke) اور یادداشت کی خرابی (Dementia) کے خطرات میں مہیب اضافہ کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف امریکہ میں اس وقت 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ماہرِ غذائیت وسانتی ملک کے مطابق، یہ تحقیق بچوں کی ابتدائی صحت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے:

 زندگی کے ابتدائی برسوں اور لڑکپن میں اپنائی گئی غذائی عادات انسان کی مجموعی صحت پر عمر بھر کے لیے انتہائی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر اب صرف بڑی عمر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ کم عمری میں بھی زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان بالغوں، بچوں اور نوعمروں میں اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

طبی ماہرین نے اس تحقیق کے تناظر میں زور دیا ہے کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے جان لیوا امراض سے بچانے کے لیے بچپن ہی سے ان کی خوراک کی مانیٹرنگ، میٹھے مشروبات کی روک تھام اور عادات کی بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ دی جائے۔