LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک ایران کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی: جے ڈی وینس جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں 6.7 شدت کا زلزلہ امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان

بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

24 June 2026

بچپن میں پھلوں کے ڈبہ بند جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی ایک طویل المدت سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس جامع تحقیق کے دوران 25 سال تک 9 سے 16 سال کی عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی غذائی عادات اور صحت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے بچپن میں روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات پیتے تھے، ان میں جوانی یا ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خاموش مگر خطرناک طبی حالت ہے جس میں خون رگوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ مسئلہ دل اور گردوں کی سنگین بیماریوں، اچانک فالج (Stroke) اور یادداشت کی خرابی (Dementia) کے خطرات میں مہیب اضافہ کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف امریکہ میں اس وقت 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ماہرِ غذائیت وسانتی ملک کے مطابق، یہ تحقیق بچوں کی ابتدائی صحت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے:

 زندگی کے ابتدائی برسوں اور لڑکپن میں اپنائی گئی غذائی عادات انسان کی مجموعی صحت پر عمر بھر کے لیے انتہائی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر اب صرف بڑی عمر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ کم عمری میں بھی زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان بالغوں، بچوں اور نوعمروں میں اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

طبی ماہرین نے اس تحقیق کے تناظر میں زور دیا ہے کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے جان لیوا امراض سے بچانے کے لیے بچپن ہی سے ان کی خوراک کی مانیٹرنگ، میٹھے مشروبات کی روک تھام اور عادات کی بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ دی جائے۔