LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

24 June 2026

بچپن میں پھلوں کے ڈبہ بند جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی ایک طویل المدت سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس جامع تحقیق کے دوران 25 سال تک 9 سے 16 سال کی عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی غذائی عادات اور صحت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے بچپن میں روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات پیتے تھے، ان میں جوانی یا ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خاموش مگر خطرناک طبی حالت ہے جس میں خون رگوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ مسئلہ دل اور گردوں کی سنگین بیماریوں، اچانک فالج (Stroke) اور یادداشت کی خرابی (Dementia) کے خطرات میں مہیب اضافہ کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف امریکہ میں اس وقت 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ماہرِ غذائیت وسانتی ملک کے مطابق، یہ تحقیق بچوں کی ابتدائی صحت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے:

 زندگی کے ابتدائی برسوں اور لڑکپن میں اپنائی گئی غذائی عادات انسان کی مجموعی صحت پر عمر بھر کے لیے انتہائی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر اب صرف بڑی عمر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ کم عمری میں بھی زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان بالغوں، بچوں اور نوعمروں میں اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

طبی ماہرین نے اس تحقیق کے تناظر میں زور دیا ہے کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے جان لیوا امراض سے بچانے کے لیے بچپن ہی سے ان کی خوراک کی مانیٹرنگ، میٹھے مشروبات کی روک تھام اور عادات کی بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ دی جائے۔