LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر پیشگوئی کرتا ہوں اگلا بجٹ شہباز حکومت پیش نہیں کرے گی، سہیل آفریدی یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں,فرانس میں 40 افراد جاں بحق، کئی ممالک میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں لگاتار 14ویں شکست، انگلینڈ نے بھی ہرا دیا خیبر پختونخوا فنانس بل میں نئے ٹیکس عائد، جرمانوں میں بڑا اضافہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال کا 2170 ارب کا بجٹ منظور کر لیا گورنر تبوک کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا پاکستان اور ایران کی امنگیں اور مقاصد مشترکہ ہیں، ایرانی صدر پزشکیان غزہ استحکام فورس: مراکش کا فوجی دستہ اسرائیل پہنچ گیا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں گے، بلاول بھٹو وزیراعظم کی حج 2026 کے منتظمین کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور

بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

24 June 2026

بچپن میں پھلوں کے ڈبہ بند جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی ایک طویل المدت سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس جامع تحقیق کے دوران 25 سال تک 9 سے 16 سال کی عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی غذائی عادات اور صحت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے بچپن میں روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات پیتے تھے، ان میں جوانی یا ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خاموش مگر خطرناک طبی حالت ہے جس میں خون رگوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ مسئلہ دل اور گردوں کی سنگین بیماریوں، اچانک فالج (Stroke) اور یادداشت کی خرابی (Dementia) کے خطرات میں مہیب اضافہ کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف امریکہ میں اس وقت 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ماہرِ غذائیت وسانتی ملک کے مطابق، یہ تحقیق بچوں کی ابتدائی صحت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے:

 زندگی کے ابتدائی برسوں اور لڑکپن میں اپنائی گئی غذائی عادات انسان کی مجموعی صحت پر عمر بھر کے لیے انتہائی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر اب صرف بڑی عمر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ کم عمری میں بھی زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان بالغوں، بچوں اور نوعمروں میں اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

طبی ماہرین نے اس تحقیق کے تناظر میں زور دیا ہے کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے جان لیوا امراض سے بچانے کے لیے بچپن ہی سے ان کی خوراک کی مانیٹرنگ، میٹھے مشروبات کی روک تھام اور عادات کی بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ دی جائے۔