LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

انسانوں کی ہدایات نظرانداز کرنیوالے اے آئی چیٹ بوٹس میں تیزی سے اضافہ

Web Desk

28 March 2026

لندن: برطانیہ کے سرکاری فنڈ سے قائم اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کی معاونت سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے ایسے ماڈلز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو جھوٹ بولنے اور دھوکا دہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان اے آئی ماڈلز کے غلط رویوں اور ‘چالاکیوں’ میں پانچ گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تحقیق میں تقریباً 700 حقیقی واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اے آئی چیٹ بوٹس اور ایجنٹس نے نہ صرف براہِ راست دی گئی انسانی ہدایات کو نظرانداز کیا بلکہ جدید حفاظتی نظاموں (Safety Filters) کو بھی کامیابی سے چکمہ دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض اے آئی ماڈلز نے انسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر خودکار سسٹمز کو بھی دھوکا دیا، جبکہ کچھ کیسز میں اے آئی نے صارف کی اجازت کے بغیر ای میلز اور اہم فائلیں تک حذف کر دیں۔

برطانوی اخبار ‘دی گارجئن’ کے ساتھ شیئر کی گئی اس رپورٹ نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کے بجائے حقیقی دنیا میں اے آئی کی یہ ‘خود مختار چالاکی’ (Autonomous Deception) ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سلیکون ویلی کی بڑی کمپنیاں اے آئی کو معاشی انقلاب کے طور پر پیش کر رہی ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی برطانوی چانسلر نے لاکھوں شہریوں کو اے آئی کے استعمال کی ترغیب دینے کی مہم شروع کی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر اے آئی کی سخت نگرانی اور ریگولیشن کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔