LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر

آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟اس کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے

Web Desk

4 November 2025

اب آپ بازار سے خریداری کر رہے ہوں، دفتر جا رہے ہوں یا گاڑی چلا رہے ہوں، تھکاوٹ کے شکار افراد کو دیکھنا معمول محسوس ہوتا ہے۔
درحقیقت ہر وقت تھکاوٹ کے شکار رہنے کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے اور وہ ہے جسم میں آئرن کی کمی۔
جسم میں آئرن کی کمی سے انیمیا یا خون کی کمی کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے جس میں مسلسل تھکاوٹ برقرار رہتی ہے۔
ویسے تو تھکاوٹ کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے تناؤ، ناقص نیند یا مصروف شیڈول، مگر جب تھکاوٹ کا تسلسل برقرار رہے اور اچھی نیند یا چائے یا کافی سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر یہ انیمیا کی نشانی ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے آئرن کی کمی کو جسم میں سب سے عام غذائی کمی قرار دیا ہے اور ایک تخمینے کے مطابق 30 فیصد عالمی آبادی کو اس کے باعث انیمیا کا سامنا ہے۔آئرن کی کمی سے جسم مناسب مقدار میں خون کے سرخ خلیات بنانے میں ناکام رہتا ہے۔
اسی طرح جسم کو آئرن کی ضرورت ایک پروٹین ہیموگلوبن بنانے کے لیے بھی ہوتی ہے جو خون کے سرخ خلیات کو آکسیجن لے جانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
خون کے سرخ خلیات پورے جسم میں آکسیجن کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔
ہمارے جسم کے ہر حصے کو اپنے افعال کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور خون میں آکسیجن کی ناکافی مقدار سے متعدد علامات سامنے آتی ہیں۔
بہت زیادہ تھکاوٹ یا کمزوری جسم میں آئرن کی کمی کی عام ترین علامت ہے۔
جب جسم کو آئرن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خون کے سرخ خلیات بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضا تک آکسیجن کی فراہمی گھٹ جاتی ہے اور اس سے تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس بڑھتا ہے۔
امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق سانس لینے میں مشکلات، سر چکرانا، سر درد، ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنا، زرد جِلد، سینے میں تکلیف، کمزوری اور تھکاوٹ آئرن کی کمی سے ہونے والے انیمیا کی عام علامات ہیں۔
جسم میں آئرن کی کمی یادداشت اور مدافعتی نظام کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
تو اس کا حل کیا ہے؟
اس کا ایک آسان حل تو آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استمال ہے، سرخ گوشت، کلیجی، مرغی کا گوشت اور مچھلی وغیرہ اس کے حصول کے بہترین ذرائع ہیں اور ہمارا جسم ان ذرائع سے ملنے والے آئرن کو زیادہ آسانی سے جذب کرلیتا ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں، خشک آلو بخار، کشمش، گریوں، بیجوں اور مٹر وغیرہ سے بھی آئرن جسم کو ملتا ہے مگر یہ ذرا مشکل سے جسم میں جذب ہوتا ہے مگر ان کے ساتھ دیگر غذائی اجزا جیسے وٹامن سی بھی جسم کو ملتے ہیں۔