LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

ملک بھر میں رواں سال کی آخری پولیو مہم کا آغاز

Web Desk

15 December 2025

انسداد پولیو پروگرام کے مطابق مہم کے دوران ساڑھے 4 کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

نیشنل ای او سی کا کہنا ہے کہ رواں سال کی آخری پولیو مہم 21 دسمبر تک ملک بھر میں جاری رہے گی، پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔سندھ میں ایک کروڑ 6 لاکھ سے زائد، خیبر پختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد اور بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد اور آزاد کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔قومی پولیو مہم میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے، ترجمان انسداد پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ بچوں کو پولیو سے بچانا ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔