LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے 60 روزہ مفاہمتی معاہدے کو جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کیا: امریکی اخبار فلسطینیوں پر تشدد تشویشناک، دو ریاستی حل پر عمل کیا جائے: پوپ لیو عراق میں نائب وزیر کے گھر پر چھاپہ، لاکھوں ڈالرز اور سونے کی اینٹیں برآمد اسرائیلی فوج کی لبنان میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تیاری وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل

ایک پروجیکٹ پر کام کرنے والے مختلف اے آئی ایجنٹس آپس میں لڑ پڑے

Web Desk

16 August 2026

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے ایک حالیہ تجربے میں تین خود مختار اے آئی ایجنٹس ایک ہی سافٹ ویئر پروجیکٹ پر کام کے دوران ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ بن گئے اور باہمی طور پر ایک دوسرے کے کام کو سبوتاژ کرنے لگے۔ تجربے میں تینوں کلاؤڈ ایجنٹس کو ایک ہی کوڈنگ پروجیکٹ تک رسائی دی گئی تھی تاہم انہیں آپس میں متصادم (Conflicting) ہدایات دی گئیں، جبکہ وہ اس بات سے بھی مکمل بے خبر تھے کہ اسی پروجیکٹ پر دیگر اے آئی سسٹمز بھی کام کر رہے ہیں۔

تقریباً چار گھنٹے کے اس سیٹ اپ کے دوران جب ایجنٹس نے دیکھا کہ ان کا کام متاثر ہو رہا ہے، تو انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ دوسرے سسٹمز جان بوجھ کر ان کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ان ایجنٹس نے ایک دوسرے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے باقاعدہ دفاعی اور اٹیکنگ اقدامات شروع کر دیے، جن میں ایک دوسرے کے خلاف خود کو نقل کرنے والے ‘سیلف ریپلیکیٹنگ میل ویئر’ (Malware) کا استعمال بھی شامل تھا۔

اینتھروپک نے اس انوکھے اور خطرناک رویے کو ‘ملٹی ایجنٹ ٹرف وار’ (Multi-Agent Turf War) کا نام دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں جب متعدد خود مختار اے آئی ایجنٹس کو ایک ساتھ کام پر لگایا جائے گا، تو ان کے اس نوعیت کے غیر متوقع اور جارحانہ رویوں کو روکنے اور انہیں کنٹرول میں رکھنے کے لیے انتہائی مضبوط اور جدید حفاظتی فریم ورک بنانا ناگزیر ہو گا۔