LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلا رکھی ہے: مسعود پزشکیان حج 2027 کی درخواستوں کی وصولی 18 اگست سے شروع ہوگی، وزارت مذہبی امور نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ کے دورۂ شام و لبنان اور سیکیورٹی تنازع پر ’غلط فہمی‘ کی وضاحت 14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں: اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل

گوادر حادثہ: کے ٹو ایئرویز کے تباہ ہونے والے کارگو طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن قبل ختم ہونے کا انکشاف

Web Desk

15 August 2026

گوادر کے قریب گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے ‘کے ٹو ایئرویز’ (K2 Airways) کے کارگو طیارے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن پہلے ہی مبینہ طور پر ختم ہو چکی تھی۔ دستاویزات کے مطابق 7 جولائی کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی انشورنس پالیسی 24 جون 2026 کو منسوخ/ختم ہو چکی تھی، جبکہ نجی انشورنس کمپنی کی جانب سے اس کا سرٹیفکیٹ 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے کے پاس موثر انشورنس کوریج موجود نہیں تھی، حالانکہ کاغذات کے مطابق ‘کے ٹو ایئرویز آل ہل رسک انشورنس’ 100 فیصد درج تھی اور مخصوص علاقوں کے علاوہ طیارہ دنیا بھر کے لیے بیمہ شدہ تھا۔

اس سنگین معاملے پر ایئر لائن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے موقف بھی سامنے آئے ہیں۔ کے ٹو ایئرویز کے نمائندے لقمان رشید کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کا تمام بنیادی ریکارڈ اس وقت ‘تحقیقاتی بورڈ’ کی تحویل میں ہے، جس کے باعث وہ فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب، ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ‘ڈپٹی ڈی جی سی اے اے’ نے واضح کیا ہے کہ سی اے اے کے پاس ایئر لائن کے پاسپورٹ اور ریکارڈ میں صرف کے ٹو ایئرویز کو جاری کردہ ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (AOC) موجود ہے، جبکہ حادثے کی تمام جہتوں اور قانونی دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔