LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا سعودیہ سے متعلق بیان خوش آئند قرار دیدیا اسرائیل کو خانہ جنگی یا مکمل ریاستی خاتمے کا سامنا ہوسکتا ہے، سی آئی اے رپورٹ ملک میں چھوٹے کاروباروں کے قرضوں کا حجم ایک ہزار 137 ارب روپے سے تجاوز کر گیا لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں ویڈیوز، تصاویر اور ٹک ٹاک بنانے پر پابندی جنوبی افریقہ سے 20 رکنی وفد کی پاکپتن آمد، دربار بابا فریدؒ پر حاضری سٹیٹ بینک نے پاکستان فنانشل انکلوژن انڈیکس 2025 کے نتائج جاری رواں سال کی پہلی ششماہی میں 2 لاکھ 23 ہزار یوکرینی شہری ملک چھوڑ گئے ووٹر لسٹوں پر احتجاج، دہلی پولیس نے راہول اور پریانکا گاندھی کو حراست میں لے لیا سندھ حکومت کا 15 اکتوبر سے سرکاری گندم جاری کرنے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ایل ون منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ آئل 101 ڈالر فی بیرل سے متجاوز ایران کے لیڈر مارے جا چکے، کوئی نہیں جانتا ملک کون چلا رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور پولینڈ کا سکیورٹی و انسدادِ دہشتگردی تعاون بڑھانے پر اتفاق آئی ایم ایف کے اعتراضات برقرار، آٹو پالیسی پر تاحال فیصلہ نہ ہوسکا امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی نئی او پی ٹی فیس کی تجویز، کالجز کو بھاری جرمانے یا فیس ادا کرنا ہوگی

گوادر حادثہ: کے ٹو ایئرویز کے تباہ ہونے والے کارگو طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن قبل ختم ہونے کا انکشاف

Web Desk

15 August 2026

گوادر کے قریب گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے ‘کے ٹو ایئرویز’ (K2 Airways) کے کارگو طیارے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن پہلے ہی مبینہ طور پر ختم ہو چکی تھی۔ دستاویزات کے مطابق 7 جولائی کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی انشورنس پالیسی 24 جون 2026 کو منسوخ/ختم ہو چکی تھی، جبکہ نجی انشورنس کمپنی کی جانب سے اس کا سرٹیفکیٹ 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے کے پاس موثر انشورنس کوریج موجود نہیں تھی، حالانکہ کاغذات کے مطابق ‘کے ٹو ایئرویز آل ہل رسک انشورنس’ 100 فیصد درج تھی اور مخصوص علاقوں کے علاوہ طیارہ دنیا بھر کے لیے بیمہ شدہ تھا۔

اس سنگین معاملے پر ایئر لائن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے موقف بھی سامنے آئے ہیں۔ کے ٹو ایئرویز کے نمائندے لقمان رشید کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کا تمام بنیادی ریکارڈ اس وقت ‘تحقیقاتی بورڈ’ کی تحویل میں ہے، جس کے باعث وہ فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب، ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ‘ڈپٹی ڈی جی سی اے اے’ نے واضح کیا ہے کہ سی اے اے کے پاس ایئر لائن کے پاسپورٹ اور ریکارڈ میں صرف کے ٹو ایئرویز کو جاری کردہ ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (AOC) موجود ہے، جبکہ حادثے کی تمام جہتوں اور قانونی دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔