LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی صدر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیشکش کر دی افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس اور جاپان کے سائنسدانوں نے جیت لیا کے پی دہشتگردی کی لپیٹ میں، سہیل آفریدی کو بانی کا مقدمہ لڑنے کی فکر ہے: شرجیل میمن امریکی وزیر دفاع کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کو خراج تحسین قطر کے قریب آئل ٹینکر پر متعدد پروجیکٹائلز سے حملہ، ہلاکتوں کا خدشہ چند ہفتوں کے دوران شام میں تیل کی پائپ لائن پر تیسرا حملہ، ملوث افراد گرفتار ایران مذاکرات کے ساتھ مزاحمت اور استقامت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا، مسعود پزشکیان سعودی عرب کے 2 ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملے، 3 افراد جاں بحق، 36 زخمی ماسکو میں دوسرا عالمی ڈیجیٹل فورم آج شروع ہوگا، 120 ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے متعدد عالمی رہنماؤں کی روسی صدر کو سالگرہ پر مبارکباد، نیک خواہشات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا سعودیہ سے متعلق بیان خوش آئند قرار دیدیا اسرائیل کو خانہ جنگی یا مکمل ریاستی خاتمے کا سامنا ہوسکتا ہے، سی آئی اے رپورٹ ملک میں چھوٹے کاروباروں کے قرضوں کا حجم ایک ہزار 137 ارب روپے سے تجاوز کر گیا لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں ویڈیوز، تصاویر اور ٹک ٹاک بنانے پر پابندی

ایران کے لیڈر مارے جا چکے، کوئی نہیں جانتا ملک کون چلا رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

Web Desk

7 October 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری 8 ماہ طویل عسکری تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ اس وقت ایران کی قیادت اور حکومتی باگ ڈور کون سنبھال رہا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کی شروعات میں ہی ایرانی رہنما مارے گئے اور ان کا ثانوی طبقہ بھی صفایا ہو چکا ہے، جس کے بعد اب کسی کو معلوم نہیں کہ تہران میں فیصلے کون کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو حملے میں مارے گئے تھے اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای جانشین بننے کے بعد زخمی ہونے کے باعث منظرِ عام سے غائب ہیں۔ دوسری جانب انہوں نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ خطے سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ایرانی حکام تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی معیشت اور ایندھن کے ذخائر شدید بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایرانی دفترِ خارجہ نے ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کا حکومتی نظام مکمل طور پر فعال ہے۔