LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوج کی موجودگی ناقابل قبول، ایران کا سخت انتباہ عباس عراقچی سے حماس اور حزب اللہ کے وفود کی ملاقات، حمایت جاری رکھنے کا اعادہ امریکہ کا 250واں یومِ آزادی: اسلام آباد اور لاہور کی تاریخی عمارات امریکی پرچم کے رنگوں سے جگمگا اٹھیں اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ مشرقی امریکا میں گرمی اور ہیٹ ویو سے 25افراد ہلاک

زرافے بھی بنیادی ریاضی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تحقین میں انکشاف

Web Desk

4 July 2026

ایک نئی اور منفرد سائنسی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ زرافے صرف اپنی لمبی گردن اور قد و قامت کے لیے ہی منفرد نہیں ہیں، بلکہ وہ بنیادی درجے کی ریاضی یعنی مقدار کا اندازہ لگانے اور حسابی تبدیلیاں سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اسپین میں ہونے والی اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چڑیا گھروں میں موجود زرافوں پر مختلف تجربات کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ معصوم جانور زیادہ اور کم مقدار میں فرق کرنے کے ساتھ ساتھ سادہ حسابی تبدیلیوں کو بھی کسی حد تک سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف بارسلونا، یونیورسٹی آف لیپزگ اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ایوولوشنری اینتھروپولوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

تجربے کے دوران بارسلونا چڑیا گھر کے 4 زرافوں کو دو الگ الگ برتنوں میں مختلف مقدار میں ان کی پسندیدہ غذا یعنی گاجروں کے ٹکڑے دکھائے گئے اور پھر برتنوں کو ڈھانپ دیا گیا۔ زرافے اس پورے عمل کو غور سے دیکھ رہے تھے کہ کس برتن میں مزید گاجریں ڈالی گئیں اور کس سے نکالی گئیں۔ بعد ازاں جب انہیں انتخاب کا موقع ملا، تو زرافوں نے تقریباً 68 فیصد مواقع پر اسی برتن کا رخ کیا جس میں گاجروں کی تعداد زیادہ تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ شرح محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زرافے مقدار میں ہونے والی تبدیلی کو سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ کہیں زرافے انسانوں کے اشاروں (مثلاً برتن کو چھونے) پر تو فیصلہ نہیں کر رہے۔ نتائج کے مطابق 4 میں سے 2 زرافے انسانی اشارے سے متاثر ہوئے، لیکن باقی 2 نے مسلسل زیادہ گاجروں والے برتن کا ہی درست انتخاب کیا، جو ان کے پیچیدہ ذہنی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب گاجروں کی کل تعداد بہت کم کر دی گئی، تو زرافوں کی کارکردگی متاثر ہوئی اور ان کا انتخاب محض ایک تکا ثابت ہوا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ زرافے انسانوں کی طرح باقاعدہ ریاضی نہیں کر سکتے، لیکن ان میں اعداد و شمار کی ایک بنیادی سمجھ ضرور موجود ہے جو انہیں جنگل میں خوراک کی تلاش اور روزمرہ کے فیصلوں میں مدد دیتی ہے۔