LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری، پٹرول و ڈیزل مزید سستا ہوگیا بہت جلد پٹرولیم لیوی ختم اور پٹرول سستا کرائیں گے، اشرافیہ اور عام عوام میں بہت بڑا فرق ہے: حافظ نعیم الرحمٰن بیرسٹر گوہر کا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے رابطہ، ملاقات کل ہوگی جولائی میں حادثے کا شکار K2 ایئرویز کے کارگو طیارے کا بلیک باکس تلاش، پاک بحریہ کی سمندر میں تاریخ ساز کامیابی صومالیہ میں ہائی جیک جہاز کیلئے آپریشن، قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانیوں سمیت 5 جاں بحق پاسدارانِ انقلاب کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، ٹرمپ پالیسیوں کی مخالفت کا مطالبہ عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آئے، ہر پالیسی عوام کیلئے ہونی چاہئے: سہیل آفریدی روس میں ٹی یو 95 فوجی طیارہ گر کر تباہ، 6 اہلکار ہلاک پی اے ای سی اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان لیتھیم منصوبے پر تعاون کا معاہدہ اسحاق ڈار کی کفایت شعاری اقدامات کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ہدایت کیلیفورنیا میں اسلامی تہواروں پر تعطیلات کو سرکاری قرار دیدیا گیا وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے وطن روانہ گورنر کے پی کا دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں پر زور، صوبائی حکومت پر تنقید پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا لائحہ عمل تیار کرلیا وزیراعظم کا لندن سٹاک ایکسچینج کا دورہ، معیشت مضبوط بنانے کیلئے بہت محنت کی: خطاب

انٹارکٹیکا میں ’خون کے آبشار‘ کا 100 سال پرانا معمہ حل

Web Desk

1 July 2026

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کے برفانی براعظم میں واقع دنیا کی مشہور اور پُرآسرار ’بلڈ فالز‘ (خونی آبشار) کے ایک صدی سے زائد پرانے معمہ کو بلآخر حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میک مرڈو ڈرائی ویلیز (McMurdo Dry Valleys) میں ٹیلر گلیشیئر سے بہنے والی یہ پانچ منزلہ سرخ آبشار اپنی خون جیسی گہری رنگت کے باعث طویل عرصے سے دنیا بھر کے محققین اور عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ تاہم، اب نئی سائنسی تحقیق نے یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ یہ مائع درحقیقت خون نہیں ہے۔

رواں سال شائع ہونے والی اس جدید تحقیق کے مطابق، آبشار سے نکلنے والا سرخ مائع دراصل آئرن (لوہے) کے اجزا سے بھرپور انتہائی نمکین پانی (Brine) ہے۔ یہ نمکین پانی گلیشیئر کے نیچے گہرائی میں موجود ایک قدیم ذخیرے میں قید ہے، جو برف کے شدید دباؤ اور گلیشیئر کی مسلسل حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً دراڑوں سے باہر نکلتا ہے۔

ماہرینِ ارضیات نے اس کی سائنسی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جب یہ آئرن سے بھرپور پانی گلیشیئر سے باہر نکل کر پہلی بار ہوا (آکسیجن) کے رابطے میں آتا ہے، تو اس میں کیمیائی عمل ہوتا ہے جسے آکسیڈائزیشن (Oxidization) کہتے ہیں۔ آکسیڈائز ہونے کے بعد یہ پانی زنگ کی طرح گہرا سرخ رنگ اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے پوری آبشار دیکھنے میں بالکل خون کی دھار جیسی دکھائی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ اس پُرآسرار مقام کو سب سے پہلے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات گریفتھ ٹیلر نے 1911ء میں دریافت کیا تھا، جس کے بعد اس گلیشیئر کا نام ان کے نام پر ‘ٹیلر گلیشیئر’ رکھا گیا اور اس منفرد رنگت کی وجہ سے اسے ’بلڈ فالز‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اب 115 سال بعد سائنس اس کے پُرآسرار سرخ رنگ کی اصل وجہ سامنے لانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔