LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تیل کی قیمتیں کم رکھنا امریکا کی پہلی ، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا دوسری ترجیح ہے: جے ڈی وینس انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن نیویارک کی تاریخی پاکستان ڈے پریڈ 42ویں سال میں داخل، بلال سعید پہلی بار میڈیسن ایونیو پر سر بکھیریں گے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال

Web Desk

5 July 2026

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تعینات ایرانی کمرشل اتاشی عباس عبدالخانی کے مطابق، 5 ماہ کے طویل تعطل کے بعد ایران کی دیّر بندرگاہ اور قطر کی الرویس بندرگاہ کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت کی یہ بحالی دوحہ میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد عمل میں آئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں بندرگاہیں خلیجی ممالک کے درمیان علاقائی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم ایران کی دیّر بندرگاہ چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران متعدد بار حملوں کا نشانہ بنی تھی جس کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے ایک عبوری معاہدے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے بعد خلیج میں جنگ سے پہلے والی بحری تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا۔ اگرچہ خلیج فارس میں جہازوں کی آمدورفت اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی ہے اور بعض بحری راستوں پر اب بھی کشیدگی برقرار ہے، تاہم اس سفارتی پیش رفت کو تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔