LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں: سرگئی لاوروف

انڈونیشیا؛ بار بار چوری سے تنگ مالک مکان نے ملزمان کو پکڑ کر ٹیپ میں لپیٹ دیا

Web Desk

3 July 2026

انڈونیشیا میں بار بار کی چوری چکاری سے تنگ آئے مقامی لوگوں کی جانب سے مبینہ چوروں کو پکڑ کر ان کے گرد رنگ برنگی ڈکٹ ٹیپ لپیٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے آن لائن دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چوروں کی مسلسل وارداتوں سے پریشان ایک مکان مالک نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر جال بچھایا اور چار مشتبہ دراندازوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے یا روایتی تشدد کا نشانہ بنانے کے برعکس، مقامی لوگوں نے ان چوروں کو سزا دینے کا ایک انتہائی انوکھا اور طنزیہ طریقہ اپنایا۔ شہریوں نے چاروں ملزمان کو سر سے لے کر پاؤں تک مختلف رنگوں کی پلاسٹک ٹیپ میں اس طرح جکڑ دیا کہ وہ مشہور کارٹونی کردار ‘ٹیلی ٹبیز’ (Teletubbies) کی طرح دکھائی دینے لگے۔

بعد ازاں ان باندھے گئے مشتبہ افراد کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئی، جہاں اسے لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس واقعے نے جہاں سوشل میڈیا صارفین کو حیران کیا، وہی انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ریاست اور پولیس کی مبینہ لاپرواہی اور جرائم پر قابو پانے میں ناکامی نے شہریوں کو اس حد تک مایوس کر دیا تھا کہ وہ ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے تشدد کے بغیر چوروں کو سدھارنے کی اچھی کوشش کی۔ دوسری طرف، ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اور چوروں کا اس طرح عوامی سطح پر مذاق اڑانے کے بجائے انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا۔