LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوج کی موجودگی ناقابل قبول، ایران کا سخت انتباہ عباس عراقچی سے حماس اور حزب اللہ کے وفود کی ملاقات، حمایت جاری رکھنے کا اعادہ امریکہ کا 250واں یومِ آزادی: اسلام آباد اور لاہور کی تاریخی عمارات امریکی پرچم کے رنگوں سے جگمگا اٹھیں اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ مشرقی امریکا میں گرمی اور ہیٹ ویو سے 25افراد ہلاک

اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ

Web Desk

5 July 2026

پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادیوں (اوپیک پلس) نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار میں یومیہ ایڈجسٹمنٹ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔

اوپیک کے اعلامیے کے مطابق، نئے معاہدے کے تحت رکن ممالک کی جانب سے یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنا اور قیمتوں میں غیر مستحکم اتار چڑھاؤ کو روکنا ہے۔ اوپیک پلس کے اس اہم اجلاس میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت اور عمان سمیت دیگر تمام رکن ممالک کے وزرائے توانائی اور نمائندوں نے شرکت کی اور عالمی توانائی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اوپیک کے ترجمان نے مزید بتایا کہ تنظیم کے سات اہم رکن ممالک کا اگلا اجلاس 2 اگست 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں پیداوار کی موجودہ سطح، رکن ممالک کے کوٹے اور عالمی مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے کر مستقبل کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔