LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ, پیدائشی شہریت کا حق برقرار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد شہید سپریم لیڈر کی تعزیتی تقریب، ایران کا پاکستان کو خصوصی دعوت نامہ بلوچستان میں گیس کمپنی کے 6 مزدور اغوا لاہور کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے ہلاکتیں؛ وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا جولائی تا ستمبر معمول سے زیادہ گرمی، فلیش فلڈ اور سیلاب کی پیشگوئی مولانا فضل الرحمان کی آزاد کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش امریکی وفد کی قطری حکام سے اہم ملاقاتیں، ایران سے براہِ راست مذاکرات کا امکان مسترد برطانیہ کا دفاعی بجٹ 2029 تک 80 ارب پاؤنڈ سالانہ کرنے کا اعلان لاہور میں اکیڈمی کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم، بھارت سندھ طاس نظام پر ناانصافی کر رہا ہے: ڈاکٹر وکٹر گاؤ گلگت میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے چھموگڑھ نالے میں طغیانی، درجنوں افراد پھنس گئے حکومت نے کبھی پی ٹی آئی سے رابطہ نہیں کیا، علیمہ خان کے دعوے غلط ہیں: طلال چودھری بلاول بھٹو کی فضل الرحمان سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے: اسحاق ڈار

جاپان فراڈ سے بچاؤ کیلئے ورچوئل پولیس افسر متعارف

Web Desk

30 June 2026

جاپان نے ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ اور سائبر دھوکا دہی کی لہر کے خلاف اپنی قومی مہم کے تحت ایک جدید ترین قدم اٹھاتے ہوئے ’اے آئی کو‘ (AIKO) نامی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی دنیا کی پہلی ورچوئل پولیس افسر کو میدان میں اتار دیا ہے۔

اوساکا پریفیکچرل پولیس (Osaka Prefectural Police) کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ ڈیجیٹل افسر ’اے آئی کو‘ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ‘یوٹیوب’ پر ایک نوجوان جاپانی خاتون کی شکل اور آواز میں نمودار ہوتی ہے اور عوام کو مختلف قسم کے فراڈ سے بچاؤ کے طریقے اور سیکیورٹی گائیڈ لائنز فراہم کرتی ہے۔ اپنی معلوماتی ویڈیوز میں وہ شہریوں کو سختی سے خبردار کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص ویڈیو کال پر خود کو پولیس افسر ظاہر کر کے پیسوں یا معلومات کا تقاضا کرے، تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ کوئی آن لائن دھوکا باز (اسکیمر) ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ورچوئل افسر کے نام یعنی ’اے آئی کو‘ میں ’اے آئی‘ سے مراد آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہے، جبکہ ’کو‘ (Ko) جاپانی ثقافت میں خواتین کے ناموں کے آخر میں استعمال ہونے والا ایک انتہائی عام اور روایتی لاحقہ ہے۔ یہ ورچوئل پولیس افسر مارکیٹ میں ہونے والی حقیقی فراڈ کالز اور دھوکا بازوں کی گفتگوؤں کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی ویڈیوز کے ذریعے مہم چلاتی ہے، تاکہ عوام کو لائیو دکھایا جا سکے کہ مجرم کس طرح معصوم لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور کن نشانیوں کو دیکھ کر فراڈ کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

جاپانی حکام کے مطابق، اے آئی کو کا آغاز ایک ایسے حساس وقت میں کیا گیا ہے جب جاپان میں گزشتہ سال کے دوران آن لائن سرمایہ کاری، رومانوی تعلقات (Romance Scams) اور جعلی پولیس افسران یا مشہور شخصیات کے روپ میں ہونے والے فراڈ کے باعث شہریوں کو مجموعی طور پر دو ارب ڈالر سے زائد کا خطیر مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پولیس کو امید ہے کہ اس اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں میں آگاہی بڑھے گی اور سائبر کرائمز کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی۔