LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل شہزادہ ہیری کا رواں ماہ فیملی سمیت امریکا سے برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو باقر قالیباف کی عراقی وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر امریکی پابندیاں، انتونیو گوتریس کا اظہار تشویش ترکیہ کو شام میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیتن یاہو اسرائیلی فوج کی پہلی بار ہند رجب کے خاندان پر فائرنگ کی تصدیق

مولانا فضل الرحمان کی آزاد کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش

Web Desk

30 June 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے معاملے پر فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہتے ہیں، کیونکہ قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے دھرنے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت بالکل ممکن ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مہاجرین کی 12 نشستوں کا متنازع معاملہ بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈنڈے یا بندوق سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ سیاسی انداز میں ہی معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری کی آمد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

دوسری جانب، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی اس پیشکش سے فوری فائدہ اٹھائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی ایک مضبوط سیاسی قوت ہے اور وہ اہم سیاسی معاملات میں ہمیشہ مولانا فضل الرحمان کے تجربے سے تعاون حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور ان کی دلی خواہش ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کا کوئی پائیدار اور پرامن حل نکالا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی دونوں کو عوامی اور سیاسی تحریکیں چلانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر میں جے یو آئی اور پی پی پی کے درمیان ایک نیا سیاسی اتحاد تشکیل پا رہا ہے، جبکہ دونوں جماعتیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے سیاسی اتحاد قائم کرنے کی خواہش مند ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ آزاد کشمیر کے  انتخابات کا غیر متنازع اور شفاف ہونا انتہائی ضروری ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو اس وقت آزاد کشمیر کے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔