LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

پاکستان کی وہ حیرت انگیز عمارت جس کا باقاعدہ علاج کیا گیا

Web Desk

29 June 2026

لاہور کے تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ شاہی قلعے کی تقریباً 400 سال پرانی “پکچر وال” کو 8 سال کی طویل اور انتھک محنت کے بعد سائنسی بنیادوں پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ عام طور پر علاج انسانوں کا کیا جاتا ہے، مگر اس منفرد تحفظاتی منصوبے میں ماہرین نے اس تاریخی دیوار کو ایک ‘مریض’ کی طرح سمجھ کر اس کی خرابیوں کی تشخیص کی اور پھر اس کا باقاعدہ ‘علاج’ کیا۔

منصوبے کی ماہرِ تعمیرات اور کنزرویشن آرکیٹیکٹ زینا نصیر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں عام طور پر تاریخی عمارتوں کو تحفظ دینے کے نام پر گرا کر نئے سرے سے بنا دیا جاتا ہے، جس سے ان کی اصل شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ تاہم، پکچر وال پراجیکٹ میں اس روایتی طریقے سے ہٹ کر اصل مواد اور تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تحفظاتی ٹیم نے دیوار پر موجود ٹائل ورک، فریسکو پینٹنگز، اینٹوں، مٹی، پانی اور تعمیراتی مواد کے نمونے حاصل کر کے ان کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کیا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کے مختلف حصے کیوں خراب ہو رہے ہیں اور ان کا مستقل حل کیا ہے۔

شاہی قلعے کی یہ تاریخی دیوار تقریباً 1600 فٹ لمبی ہے، جس پر مغلیہ دور کا شاندار فنِ تعمیر اور نقش و نگار موجود ہیں۔ ماہرین نے دیوار کو نیا روپ دینے کے بجائے اس کی اصل شکل اور تاریخی شناخت کو برقرار رکھا۔ اس منصوبے کے تحت صرف انہی حصوں کی مرمت کی گئی جن کے مستند تاریخی شواہد موجود تھے، جبکہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی۔ دیوار کی سطحی مرمت کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کی نکاسی کا جدید نظام بھی بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں دیوار کو نمی اور پانی کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔  ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ تحفظ (کنزرویشن) کا اصل مقصد تاریخی عمارت کو نیا چمکدار بنانا نہیں، بلکہ اس کی اصل حالت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عمر بڑھانا ہوتا ہے، اور یہ پراجیکٹ اسی بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔