LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

پاکستان کی وہ حیرت انگیز عمارت جس کا باقاعدہ علاج کیا گیا

Web Desk

29 June 2026

لاہور کے تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ شاہی قلعے کی تقریباً 400 سال پرانی “پکچر وال” کو 8 سال کی طویل اور انتھک محنت کے بعد سائنسی بنیادوں پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ عام طور پر علاج انسانوں کا کیا جاتا ہے، مگر اس منفرد تحفظاتی منصوبے میں ماہرین نے اس تاریخی دیوار کو ایک ‘مریض’ کی طرح سمجھ کر اس کی خرابیوں کی تشخیص کی اور پھر اس کا باقاعدہ ‘علاج’ کیا۔

منصوبے کی ماہرِ تعمیرات اور کنزرویشن آرکیٹیکٹ زینا نصیر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں عام طور پر تاریخی عمارتوں کو تحفظ دینے کے نام پر گرا کر نئے سرے سے بنا دیا جاتا ہے، جس سے ان کی اصل شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ تاہم، پکچر وال پراجیکٹ میں اس روایتی طریقے سے ہٹ کر اصل مواد اور تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تحفظاتی ٹیم نے دیوار پر موجود ٹائل ورک، فریسکو پینٹنگز، اینٹوں، مٹی، پانی اور تعمیراتی مواد کے نمونے حاصل کر کے ان کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کیا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کے مختلف حصے کیوں خراب ہو رہے ہیں اور ان کا مستقل حل کیا ہے۔

شاہی قلعے کی یہ تاریخی دیوار تقریباً 1600 فٹ لمبی ہے، جس پر مغلیہ دور کا شاندار فنِ تعمیر اور نقش و نگار موجود ہیں۔ ماہرین نے دیوار کو نیا روپ دینے کے بجائے اس کی اصل شکل اور تاریخی شناخت کو برقرار رکھا۔ اس منصوبے کے تحت صرف انہی حصوں کی مرمت کی گئی جن کے مستند تاریخی شواہد موجود تھے، جبکہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی۔ دیوار کی سطحی مرمت کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کی نکاسی کا جدید نظام بھی بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں دیوار کو نمی اور پانی کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔  ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ تحفظ (کنزرویشن) کا اصل مقصد تاریخی عمارت کو نیا چمکدار بنانا نہیں، بلکہ اس کی اصل حالت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عمر بڑھانا ہوتا ہے، اور یہ پراجیکٹ اسی بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔