LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، 6 فلسطینی شہید، 14 زخمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، طبی سہولیات ملنا سب کا حق ہے: شرجیل میمن وزیر داخلہ کی شہید میجر احسان کی رہائشگاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار

جولائی تا ستمبر معمول سے زیادہ گرمی، فلیش فلڈ اور سیلاب کی پیشگوئی

Web Desk

30 June 2026

محکمہ موسمیات نے جولائی سے ستمبر تک کے موسم کے حوالے سے اپنی اہم ترین پیشگوئی (سیزنل آؤٹ لک) جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان، پنجاب اور جنوبی خیبر پختونخوا میں معمول سے زیادہ گرمی پڑنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں معمول کے مطابق یا معمول سے کچھ زیادہ بارشیں متوقع ہیں، جس کی وجہ سے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) اور لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ان بارشوں کے باعث دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، تاہم سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں مون سون کی شدید بارشوں کے دوران اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ پیشگوئی میں مزید کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے کا عمل تیز ہو سکتا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے واقعات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں معمول سے کم بارش کے باعث خریف کی فصلوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے زراعت کے لیے آبپاشی کی ضرورت اور دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اچانک فرق کے باعث ملک میں تیز ہوائیں، گرد آلود آندھیاں، شدید گرج چمک اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے جو کھڑی فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جبکہ میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہیٹ ویو (شدید لو) کی صورتحال بھی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ بالخصوص جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں گرمی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا، اور زیادہ گرم و مرطوب موسم کے باعث ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی سر اٹھائیں گے۔ محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر کھلے مقامات پر طویل وقت گزارنے سے پرہیز کریں اور صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ شہری زیادہ سے زیادہ پانی پی کر خود کو ہائیڈریٹ رکھیں اور ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے استعمال کریں۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو کھڑی فصلوں کے تحفظ کے لیے فوری احتیاطی تدابیر اپنانے اور سیاحوں کو پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے دوران سفر میں خصوصی احتیاط برتنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔