تھکان دور کرنے کا انوکھا طریقہ، نوجوان نے آنکھوں پر مساج گن چلا دی
Web Desk
29 June 2026
لندن: پٹھوں (Muscles) کی تھکان دور کرنے اور خون کی گردش بڑھانے کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی مشہور ‘مساج گن’ (Massage Gun) کا غیر سائنسی اور غلط استعمال ایک برطانوی نوجوان کے لیے انتہائی تباہ کن اور جان لیوا ثابت ہوا، جس نے اس کی بینائی کو مروجہ طور پر مستقل اندھیرے کے دہانے پر پہنچا دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی ایک چونکا دینے والی طبی رپورٹ کے مطابق، ایک 20 سالہ برطانوی نوجوان نے اپنی آنکھوں کی تھکن، کھنچاؤ اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے مساج گن کو براہِ راست اپنے حساس پپوٹوں (Eyelids) اور آنکھوں کے ڈیلوں (Eyeballs) پر چلا دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نوجوان پچھلے 3 ماہ سے ہر ہفتے باقاعدگی اور تزویراتی تسلسل کے ساتھ مساج گن کو اپنی آنکھوں پر استعمال کر رہا تھا، تاکہ اسے عارضی طور پر سکون اور ریلیکسیشن مل سکے۔
طبی سنگینی اس وقت سامنے آئی جب چند دن پہلے اس کی دائیں آنکھ کے سامنے اچانک مکمل اندھیرا چھا گیا، اور اسے چمکتی ہوئی روشنیاں (Flashing Lights) اور دھندلے سیاہ دھبے تیرتے ہوئے نظر آنے لگے۔ نوجوان گھبرا کر فوری طور پر ہسپتال کے شعبہ چشم (Ophthalmology) پہنچا۔ ڈاکٹرز کی جانب سے کیے گئے تفصیلی سائنسی و طبی معائنے پر یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ مساج گن کی شدید ہائی فریکوئنسی تھرتھراہٹ (Vibrations) اور مکینیکل دباؤ نے آنکھ کے نازک ڈیلوں کو اندر کی طرف پچکا دیا ہے۔ اس تزویراتی نقصان کے نتیجے میں اس کی دونوں آنکھوں کے انتہائی حساس اندرونی پردے (Retina) جگہ جگہ سے بری طرح پھٹ کر اپنی اصل جگہ سے الگ (Bilateral Retinal Detachment) ہو چکے تھے۔
علاج کرنے والے ماہرینِ چشم (Eye Specialists) نے تزویراتی سرجری کے بعد بتایا کہ عالمی طبی تاریخ (Medical History) میں مساج گن کے بیرونی دباؤ کی وجہ سے کسی مریض کی دونوں آنکھوں کے پردے بیک وقت پھٹنے کا یہ دنیا کا پہلا باقاعدہ دستاویزی کیس (First Documented Case) بن گیا ہے۔ خوش قسمتی سے، ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹرز کی فوری طبی مداخلت، نازک مائیکرو سرجری اور مسلسل 6 ماہ کے مروجہ علاج کے بعد اب نوجوان کی آنکھوں کی حالت نسبتاً مستحکم ہے اور اس کی بینائی کو مزید مستقل ضائع ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ ماہرین نے پبلک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مساج گن جیسے ہارڈ ویئر آلات کو چہرے، گردن کی حساس شریانوں اور آنکھوں جیسے نازک اعضاء پر ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔
متعلقہ عنوانات
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026
مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
29 July 2026
وسیم اکرم اور شنیرا کا پالتو کتا لاپتہ
29 July 2026
امریکا: 53 برس بعد بوتل میں بند پیغام مل گیا
28 July 2026
امریکی شہری کو سائیکل چلانے کے دوران مشعل جگلنگ کرنا مہنگا پڑ گیا
28 July 2026