LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل حکومت کا پی ٹی ائی سے مذاکرات کا اعلان ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ مشرکہ مذاکرات کرے گے

’’فون نمبر نہیں صرف نام‘‘، واٹس ایپ کا نیا دلچسپ فیچر متعارف

Web Desk

30 June 2026

دنیا بھر میں سماجی رابطوں کی سب سے مقبول ترین ایپلی کیشن ‘واٹس ایپ’ نے صارفین کی پرائیویسی کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک انقلابی تبدیلی کرتے ہوئے نیا ‘یوزر نیم’ (Username) فیچر متعارف کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیچر کے بعد اب صارفین کو کسی سے رابطہ کرنے کے لیے اپنا پرسنل فون نمبر دینے کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ صرف نام بتانا ہی کافی ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ کا یہ نیا اقدام صارفین کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ اس فیچر کے تحت ہر صارف کو اپنا ایک مخصوص اور منفرد یوزر نیم منتخب کرنے کی سہولت ملے گی۔ یہ فیچر فعال (Activate) ہونے کے بعد فون نمبر کے بجائے صرف یہ آئی ڈی دینا ہی چیٹنگ شروع کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ تاہم، کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یوزر نیم رکھنا ہر صارف کے لیے لازمی نہیں ہوگا، بلکہ یہ اختیاری ہوگا۔

واٹس ایپ کے مطابق یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہو سکے گا، اور صارفین جب چاہیں اپنی مرضی سے اس یوزر نیم کو تبدیل یا مکمل طور پر حذف (Delete) کر سکیں گے۔ یوزر نیم کے ذریعے رابطہ قائم ہونے کے باوجود پرائیویسی کنٹرول صارف کے ہاتھ میں رہے گا۔ اگر کوئی ناپسندیدہ شخص پیغامات بھیجتا ہے، تو اسے بلاک یا رپورٹ کرنے کا آپشن بدستور موجود رہے گا۔کمپنی نے سیکورٹی کے پیشِ نظر یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کے دھوکے، فراڈ یا جعل سازی سے بچنے کے لیے معروف عالمی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے نام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے تاکہ کوئی ان کی شناخت کا غلط استعمال نہ کر سکے۔اس فیچر کے متعارف ہونے سے واٹس ایپ صارفین اب اپنے فون نمبرز کو اجنبی لوگوں سے محفوظ رکھ سکیں گے اور محض یوزر نیم کا تبادلہ کر کے باآسانی گفتگو کا آغاز کر سکیں گے۔