عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے: اسحاق ڈار
Web Desk
30 June 2026
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے اور دریاؤں کے پانی روکنے کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی محض کوئی عام قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ یہ انسانی وقار، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے، کیونکہ پانی سیاسی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا بلکہ زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وعدہ خلافی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے، جس سے قوانین کی بالادستی پر قائم وہ نظام بھی کمزور ہوتا ہے جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار ہے۔ جنوبی ایشیا کو پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔
نائب وزیراعظم نے یاد دہانی کروائی کہ سندھ طاس معاہدہ کئی برسوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جس کا بنیادی مقصد دستیاب آبی وسائل کا بہترین اور منصفانہ استعمال یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے اور عالمی قانون، معاہدوں پر عملدرآمد اور آبی حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے، لیکن پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی بھی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا اور اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین اور سفارتی ذرائع سے مؤثر انداز میں کام جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ معطلی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں یہ واضح فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے پانی کا رخ موڑنے، اسے روکنے یا اس میں کسی بھی قسم کی کمی کرنے کی کوشش کو “جنگ” تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ مکمل قومی یکجہتی کے ساتھ کیا گیا تھا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم پر سختی سے قائم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور ہماری کوشش ہمیشہ کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی رہی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا
30 June 2026
امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ, پیدائشی شہریت کا حق برقرار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد
30 June 2026
ہمایوں اشرف نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟ وجہ سامنے آگئی
30 June 2026
ٹائر پنکچر ہونے پر دنانیر مبین کا تنہا نہ رہنے کا فیصلہ؟ دلچسپ وجہ بتادی
30 June 2026
شہید سپریم لیڈر کی تعزیتی تقریب، ایران کا پاکستان کو خصوصی دعوت نامہ
30 June 2026
آئی ایم ایف شرائط، ایف بی آر کا افسران کے اثاثوں تک بینکوں کی رسائی کے اعداد و شمار جاری کرنے کا فیصلہ
30 June 2026
بلوچستان میں گیس کمپنی کے 6 مزدور اغوا
30 June 2026
لاہور کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے ہلاکتیں؛ وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا
30 June 2026