LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ

امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ, پیدائشی شہریت کا حق برقرار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد

Web Desk

30 June 2026

امریکی سپریم کورٹ نے ملک میں رائج دہائیوں پرانے ‘پیدائشی شہریت’ (Birthright Citizenship) کے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچوں سے یہ حق چھیننے کی کوشش کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے منگل کے روز جاری کیے گئے اکثریتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ چودہویں آئینی ترمیم کے تحت امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر بچہ خودبخود امریکی شہری بن جاتا ہے، چاہے اس کے والدین کی امیگریشن کی حیثیت قانونی ہو یا غیر قانونی۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی رائے تحریر کرتے ہوئے لکھا: “امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے امریکی دائرہ اختیار کے تابع ہیں اور چودہویں ترمیم کے تحت پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں۔”

اس تاریخی مقدمے، جسے ‘ٹرمپ بنام باربرا’ (Trump v. Barbara) کا نام دیا گیا، کا فیصلہ 5 ججز کی اکثریت سے سامنے آیا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس کے ساتھ قدامت پسند (Conservative) جج ایمی کونی بیریٹ اور عدالت کے تینوں لبرل ججز ایلینا کاگن، سونیا سوٹومائیر اور کیٹانجی براؤن جیکسن نے اس آئینی حق کے حق میں ووٹ دیا۔ دوسری جانب، ایک اور قدامت پسند جج بریٹ کاوانا نے اگرچہ صدارتی حکم نامے کو مسترد کیا، لیکن ان کا مؤقف تھا کہ یہ آرڈر آئین کے بجائے 1940 کے ایک وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

عدالت کے دیگر تین قدامت پسند ججز کلیرنس تھامس، سیموئل الیٹو اور نیل گورسچ نے اس فیصلے سے شدید اختلاف کیا۔ جج سیموئل الیٹو نے اپنے اختلافی نوٹ میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ “عدالت نے ایک سنگین غلطی کی ہے۔”

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں اپنی واپسی کے پہلے ہی روز ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت یہ طے کیا گیا تھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن یا عارضی ویزا پر آئے وزٹرز کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی شہریت کی دستاویزات جاری نہیں کی جائیں گی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران اپریل میں ڈونلڈ ٹرمپ خود عدالت میں موجود تھے اور وہ امریکی تاریخ کے پہلے ایسے برسرِاقتدار صدر بنے جنہوں نے سپریم کورٹ کی زبانی کارروائی میں ذاتی طور پر شرکت کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق، اگر سپریم کورٹ ٹرمپ کے اس حکم نامے کو برقرار رکھتی تو امریکہ میں ہر ماہ غیر قانونی تارکینِ وطن یا وزٹرز کے ہاں پیدا ہونے والے دسیوں ہزار معصوم بچے امریکی شہریت کے حق سے محروم ہو جاتے۔ سپریم کورٹ کے اس حتمی فیصلے کے بعد اب 1868 سے قائم چودہویں آئینی ترمیم کا یہ اصول برقرار رہے گا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر شخص بلا تفریقِ رنگ و نسل اور خاندانی پسِ منظر، امریکہ کا باقاعدہ شہری ہے۔