LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں ایرانی اخبار کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل؛ امریکہ کے ایران پر 140 حملے، آبنائے ہرمز بند ایرانی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت عالمی رہنماؤں کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ جاری کر دی امریکی فوج کے ایران پر مزید حملے ایران کے شہر بندر عباس کے مغرب میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے

بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

Web Desk

17 June 2026

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکزی رہنما خواجہ اظہار الحسن نے بجٹ اور ملکی انتظامی ڈھانچے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اراکینِ اسمبلی اور حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن نے وزیراعظم کے حالیہ بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ وہ “دل پر پتھر رکھ کر” یہ بجٹ پیش کر رہے ہیں؛ ہماری درخواست ہے کہ یہ ‘دل پر پتھر رکھنے والی ٹیکنالوجی’ تھوڑی سی ہمیں اور عوام کو بھی دے دیں تاکہ ہمیں بھی یہ تکلیف سہنے کا طریقہ آ جائے۔ انہوں نے سچائی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا عام آدمی اس روایتی بجٹ سے شدید بیزار، مایوس اور مکمل طور پر لاتعلق ہو چکا ہے کیونکہ اس میں غریب کے لیے کچھ نہیں ہے۔

حکمران طبقے کے شاہانہ طرزِ زندگی پر تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا:

“ہم یہاں اسمبلیوں میں بیٹھ کر پچاس پچاس گاڑیوں کے وی آئی پی (VIP) پروٹوکول میں گھوم رہے ہیں۔ حکمران اور اراکینِ اسمبلی کبھی بغیر سیکیورٹی، بنا چمچوں اور پروٹوکول کے عام موٹر سائیکل پر باہر نکلیں، تب انہیں زمینی حقائق اور عوام کی اصل تکلیف کا اندازہ ہوگا۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کا المیہ یہ ہے کہ یہاں غریب پستا چلا جا رہا ہے جبکہ کرپشن کے کنگز (بڑے بڑے کرپٹ عناصر) کو سرکاری سطح پر ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔

صوبائی خودمختاری اور نظامِ حکومت پر بات کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر تمام اراکینِ اسمبلی اپنے اپنے صوبوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا رونا رو رہے ہیں۔ اگر اٹھارہویں ترمیم کے اتنے سالوں بعد بھی صوبوں کی حالتِ زار یہی ہے، تو پھر اس اٹھارہویں ترمیم کو فوری طور پر رول بیک (ختم) کر دینا چاہیے، کیونکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ترمیم نے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے تزویراتی نکتہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تو صوبے عملی طور پر آزاد ریاستیں بن چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ عوام کو ریلیف دینے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔