LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مزدوروں کے قاتل رعایت کے مستحق نہیں، سخت کارروائی ہوگی: وزیراعلیٰ بلوچستان بلوچستان میں مسلح افراد کی فائرنگ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 مزدور جاں بحق سابق امیر کا انتقال، وزیر اعظم شہباز شریف آج قطر جائیں گے پاکستان اور سعودیہ کا خواتین کے حقوق، خاندانی نظام اور مشترکہ تعاون کے فروغ کا اعادہ پنجاب سے 1 لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھجوا دیا: محکمہ داخلہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: قطر نے سمندری سرگرمیاں معطل کردیں اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر کی خوشحالی میں تاریخی کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم جسمانی اور ذہنی صحت کے ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے: ٹرمپ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے: اعظم نذیر 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں ایرانی اخبار کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل؛ امریکہ کے ایران پر 140 حملے، آبنائے ہرمز بند ایرانی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت عالمی رہنماؤں کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ جاری کر دی

امریکی فوج کے ایران پر مزید حملے

Web Desk

12 July 2026

امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی افواج نے ایران پر مزید حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں اس کی بحری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔

سینٹکام کے مطابق، ان تازہ حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ یہ کارروائیاں امریکی کمانڈر اِن چیف (صدر) کی براہِ راست ہدایات پر کی جا رہی ہیں تاکہ ایرانی افواج کو ان کے اقدامات پر جواب دہ ٹھہرایا جا سکے۔

دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے ساحلی شہر بندر عباس میں کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم، دھماکوں کی نوعیت اور ان سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں