LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے مجوزہ زمینی کارروائی کی سازش ابتدا میں ہی ناکام بنا دی، ابراہیم عزیزی بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید صحت کارڈ کا بجٹ 51 ارب روپے، 3 سال میں 25 لاکھ افراد مستفید ہوئے: مزمل اسلم اقوام متحدہ اور ایف پی سی سی آئی کا کاروباری برادری کو انسانی امدادی اقدامات سے جوڑنے پر اتفاق آن لائن جنسی بلیک میلنگ و مالی فراڈ میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، 114 غیر ملکی گرفتار پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ

افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں

Web Desk

12 July 2026

اقوام متحدہ میں آئرلینڈ کے مستقل مندوب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، آئرش وزیرِ انصاف جم اوکالاگھن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے خلاف آئرلینڈ کا اصولی مؤقف پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے طالبان رجیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

آئرش وزیرِ انصاف نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ قابض طالبان رجیم میں افغان عوام، بالخصوص خواتین کو تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی ترین حقوق سے مستقل محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے افغان طالبان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا کہ طالبان رجیم خواتین کی آزادیاں سلب کرنے کے لیے بدستور ‘صنفی تشدد’ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب، آسٹریلوی صحافی آنہ کورین نے بھی طالبان انتظامیہ کے خواتین مخالف اقدامات کو شدید امتیازی قرار دیتے ہوئے اسے “خواتین کے خلاف جنگ” کا نام دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مندوبین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے تحت انسانی حقوق کی یہ سنگین پامالیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین اس وقت بدترین جبر اور مظالم کا شکار ہیں۔