ناسا کے خلاباز اب پراڈا کے ڈیزائن کردہ جدید سپیس سوٹس پہنیں گے
Web Desk
9 June 2026
میلان/ہیوستن: فیشن کی دنیا کے مشہور ترین اطالوی لگژری برانڈ ’پراڈا‘ (Prada) اور خلائی انفراسٹرکچر کے معروف ادارے ’ایکسیم اسپیس‘ (Axiom Space) نے مشترکہ طور پر ناسا (NASA) کے آئندہ قمری مشنز کے لیے تیار کردہ ایک انتہائی جدید اندرونی اسپیس سوٹ کی رونمائی کر دی ہے۔ یہ لباس چاند کی سطح پر جانے والے خلانوردوں کی حفاظت اور آرام کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
سائنسی و مینوفیکچرنگ تفصیلات کے مطابق، پراڈا اور ایکسیم اسپیس کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے اس اندرونی خلائی لباس کو ایل سی وی جی (LCVG – Liquid Cooling and Ventilation Garment) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سوٹ عام خلائی ملبوسات کے برعکس ہائی ٹیک انجینئرنگ اور لگژری ڈیزائننگ کا ایک شاہکار ہے۔
چاند کے انتہائی سخت، گرم اور سرد ماحول میں خلانوردوں کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لیے اس سوٹ میں درج ذیل سائنسی سسٹمز نصب کیے گئے ہیں:سوٹ کے کپڑے کے اندر ہی جدید ترین ہوا کی آمد و رفت کا نظام مربوط کیا گیا ہے جو جسم کو آکسیجن کی فراہمی اور پسینے کو خشک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کپڑے کے اندر باریک نالیوں کا ایک مینوئل نیٹ ورک بچھایا گیا ہے، جس کے ذریعے ٹھنڈا پانی خلانورد کے جسم کے اہم عضلاتی حصوں (Muscular Areas) تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ جسمانی درجہ حرارت مکمل طور پر متوازن اور آرام دہ رہے۔
پراڈا کے چیف مارکیٹنگ آفیسر لورینزو برٹیلی نے اس تاریخی پیش رفت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا
“یہ پراجیکٹ ایکسیم اسپیس کی خلائی مہارت اور پراڈا کی اعلیٰ ڈیزائننگ، پیٹرن سازی اور جدید مٹیریلز (Advanced Materials) کے شعبوں میں مہارت کا ایک جادوئی امتزاج ہے۔ یہ منصوبہ انسانیت کی چاند پر واپسی کے تاریخی سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔”
دوسری جانب ایکسیم اسپیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) جونتھن کرٹین کا کہنا تھا کہ خلائی انجینئرنگ کی جدید صلاحیتوں کو لگژری دستکاری اور جدید پروڈکٹ ڈیویلپمنٹ کے ساتھ یکجا کر کے ایک ایسا اسپیس سوٹ تیار کیا گیا ہے، جو دونوں کمپنیوں میں سے کوئی ایک بھی اکیلے تیار نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کے درمیان یہی تزویراتی تعاون مستقبل کے انسانی خلائی سفر کی نئی پہچان بنے گا۔
خلائی ماہرین کے مطابق، فیشن ہاؤس پراڈا کے تیار کردہ یہ جدید ترین اسپیس سوٹس ناسا کے مروجہ قمری مشنز کے دوران خلابازوں کی کارکردگی، نقل و حرکت کی آزادی اور ان کی حیاتیاتی حفاظت کو بہتر بنانے میں گیم چینجر ثابت ہوں گے۔
متعلقہ عنوانات
سورج سے اٹھنے والا خوفناک طوفان زمین کی جانب گامزن، ناسا کا الرٹ جاری
9 June 2026
حکومت کا مقصد کاروباری اور اداروں کو ٹیکنالوجی سپورٹ دینا ہے: شزہ فاطمہ خواجہ
9 June 2026
ہمارے نوجوان باصلاحیت، فری لانسنگ اور متعدد پلیٹ فارمز سے روزگار کما رہے: شزہ فاطمہ
9 June 2026
واٹس ایپ نے اپنے صارفین کیلئے اہم اپ ڈیٹ کر دی
8 June 2026
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کو ’سپر ایپ‘ بنانے کا فیصلہ
8 June 2026
خبردار! سمز کے غیرقانونی استعمال کے معاملے پر ایڈوائزری جاری
8 June 2026
مصنوعی ذہانت نے پہلی بار انسانی انٹرنیٹ ٹریفک کو پیچھے چھوڑ دیا
7 June 2026
فیفا ورلڈ کپ 2026 کیلئے واٹس ایپ کا بڑا قدم
6 June 2026