دودھ پتی چائے کے شوقین محتاط رہیں، ماہرینِ غذائیت نے خبردار کردیا
Web Desk
30 May 2026
کراچی: برصغیر پاک و ہند اور خاص طور پر پاکستان میں دودھ پتی چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی، ثقافت اور مہمان نوازی کا ایک لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، اب ماہرینِ صحت اور غذائیت نے خبردار کیا ہے کہ اس روایتی مشروب کا ضرورت سے زیادہ اور غلط انداز میں استعمال انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
معروف ماہرِ غذائیت (Nutritionist) نے دودھ پتی چائے کے فوائد اور نقصانات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ چائے صحت کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ، اس کا پورا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے کس انداز میں تیار کیا گیا ہے، اس میں کون سے اجزا شامل کیے گئے ہیں اور پتی کی کوالٹی کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چائے اگر اعتدال میں پی جائے تو یہ جسم کو فوری توانائی اور تازگی فراہم کرتی ہے، لیکن دن بھر میں 3 سے 4 کپ سے زیادہ چائے پینا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ زیادہ دودھ، زیادہ چینی اور حد سے زیادہ کڑک چائے پینے سے مختلف طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔
ماہرِ غذائیت کے مطابق، روایتی دودھ پتی کو دیر تک ابالنے اور کڑک بنانے سے اس کی غذائیت منفی اثرات میں بدل جاتی ہے:
-
شوگر لیول میں اضافہ: دودھ پتی میں چینی کی زیادہ مقدار جسم میں بلڈ شوگر لیول کو تیزی سے بڑھا سکتی ہے، جو ذیابطیس کا سبب بنتی ہے۔
-
معدے کی تیزابیت: زیادہ دیر تک پکی ہوئی کڑک چائے بعض افراد میں بدہضمی، پیٹ میں گیس اور جلن پیدا کرتی ہے۔
-
لییکٹوز عدم برداشت (Lactose Intolerance): کچھ لوگوں کا معدہ دودھ اور پتی کے اس بھاری امتزاج کو ہضم نہیں کر پاتا، جس سے انہیں معدے کی شدید حساسیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرِ غذائیت نے ہمارے معاشرے میں عام پائی جانے والی دو عادات کو صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا:
چائے اور سگریٹ کا امتزاج: چائے کے ساتھ سگریٹ نوشی (Chai-Cigarette) کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ یہ امتزاج انسانی جسم میں پانی کی شدید کمی (Dehydration) پیدا کرتا ہے اور دل و معدے کے امراض کا سبب بنتا ہے۔ رات کے کھانے کے بعد چائے: رات کے کھانے کے فوراً بعد دودھ پتی پینے کی عادت ہاضمے کو روکتی ہے۔ سونے سے کم از کم 3 سے 4 گھنٹے قبل چائے یا کیفین والے مشروبات سے مکمل گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ نیند کے قدرتی نظام (Insomnia) کو شدید متاثر کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے کو مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ طرزِ زندگی میں درج ذیل تبدیلیاں لا کر اسے مفید بنایا جا سکتا ہے:
-
ہلکی چائے کا انتخاب: دودھ پتی کے بجائے بلیک ٹی، گرین ٹی یا ہلکی دودھ والی چائے کو ترجیح دیں۔
-
قدرتی اجزا کا استعمال: چائے میں ادرک، الائچی، دار چینی، لونگ اور سونف جیسے قدرتی مصالحے شامل کریں۔ یہ نہ صرف ذائقہ بڑھاتے ہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی بہترین کرتے ہیں۔
-
گرین ٹی اور میچا: اگر گرین ٹی یا میچا (Matcha) کا استعمال کرنا ہو تو انہیں سادہ گرم پانی کے ساتھ پئیں۔ ان میں دودھ، کریم یا چینی شامل کرنے سے ان کے تمام فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔
ماہرِ غذائیت نے پریس کانفرنس اور انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے ضروری ہے کہ چائے کو اعتدال کے ساتھ چھوٹے کپوں میں پیا جائے اور دن بھر میں پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے تاکہ چائے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔
متعلقہ عنوانات
فضائی آلودگی بچوں کے پھیپھڑوں پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
30 May 2026
سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
29 May 2026
جگر کے مریضوں کیلئے آزمائی گئی نئی سیل تھراپی
29 May 2026
عید پر گوشت کے حد سے زیادہ استعمال سے گریز کریں، ماہرینِ صحت
27 May 2026
چینی سائنس دانوں نے پیس میکر کا متبادل تیار کرلیا
26 May 2026
مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟
26 May 2026
سویا اور دالوں کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کر سکتا ہے: تحقیق
25 May 2026
لاہور میں انسدادِ پولیو مہم کامیاب، مقررہ اہداف سے زائد کامیابی حاصل
25 May 2026