فضائی آلودگی بچوں کے پھیپھڑوں پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
Web Desk
30 May 2026
لندن: فضائی آلودگی کے انسانی صحت پر پڑنے والے ہولناک اثرات کے حوالے سے ایک نئی اور چونکا دینے والی طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آلودہ ہوا برطانیہ میں بچوں کے پھیپھڑوں کی قدرتی نشوونما کو مستقل طور پر سست (متاثر) کر رہی ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر (University of Leicester) کے ماہرین کی زیرِ نگرانی ہونے والی اس تاریخی تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے برسٹل اور اس کے گرد و نواح میں 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے 5 ہزار سے زائد افراد کا ان کی پیدائش سے لے کر جوانی تک یعنی کئی دہائیوں تک انتہائی تفصیلی اور گہرائی سے جائزہ لیا۔
ماہرین نے تحقیق میں شامل بچوں کی عمر کے مختلف حصوں میں پھیپھڑوں کی کارکردگی اور صلاحیت کو جانچنے کے لیے باقاعدہ ٹیسٹ کیے۔
-
پہلا مرحلہ: بچوں کی 8 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے ابتدائی ٹیسٹ کیے گئے۔
-
دوسرا مرحلہ: انہی بچوں کے 15 برس کی عمر کو پہنچنے پر دوبارہ ٹیسٹ لیے گئے۔
-
تیسرا مرحلہ: آخری ٹیسٹ 24 سال کی عمر میں کیے گئے، یہ وہ عمر ہوتی ہے جب عام طور پر انسانی پھیپھڑے اپنی زندگی کی مکمل نشوونما پا چکے ہوتے ہیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے جدید سائنسی طریقوں کی مدد سے بچوں پر فضائی آلودگی کے اثرات کا دقیق حساب لگایا۔ اس میں خاص طور پر ہوا میں موجود باریک زہریلے ذرات (Particulate Matter)، ڈیزل گاڑیوں کے دھوئیں سے نکلنے والی شدید آلودگی اور فوسل گیس بوائلرز سے پیدا ہونے والی خطرناک گیس نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کو بنیاد بنایا گیا۔
اس سائنسی جائزے میں یہ بھی باریک بینی سے دیکھا گیا کہ ماؤں کے پیٹ میں یعنی دورانِ حمل کے ہر مرحلے اور بعد ازاں پیدائش کے بعد بچپن کے ہر سال میں ان بچوں کو مجموعی طور پر کتنی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یونیورسٹی آف لیسٹر سے تعلق رکھنے والی اس تاریخی تحقیق کی سربراہ پروفیسر این ہینسل نے میڈیا کو بتایا کہ ماہرین کی ٹیم نے برسوں کی انتھک محنت اور ڈیٹا ماڈلنگ کے ذریعے حمل اور ابتدائی زندگی میں فضائی آلودگی کے اثرات کا ایک جامع تخمینہ تیار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سائنسی تخمینے اور سڑکوں پر گاڑیوں کے دھوئیں کے اثرات کو ناپنے کے لیے برسٹل سٹی کونسل سے گزشتہ بیس سالوں کا ٹریفک ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا، تاکہ نتائج کو سو فیصد درست اور حقائق پر مبنی بنایا جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچپن میں پھیپھڑوں کی نشوونما سست ہونے کے اثرات بڑھاپے میں سانس کی دائمی بیماریوں کی شکل میں نکل سکتے ہیں، اس لیے حکومتوں کو اب ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026