LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

ایبولا وائرس کی نئی قسم کیخلاف ویکسین سے متعلق اہم پیشرفت

Web Desk

23 May 2026

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو (DRC) میں پھیلے ایبولا وائرس کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک قسم کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ طبی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ نئی ویکسین چند ہی ماہ کے اندر کلینیکل ٹرائلز (انسانوں پر آزمائش) کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت کانگو میں ایبولا کی ’بیونڈی بُگیو‘ (Bundibugyo) نامی خطرناک قسم کا پھیلاؤ جاری ہے، جس نے صحت کے عالمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک اس وائرس سے 7 افراد کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید 177 اموات کے پیچھے بھی اسی مہلک وائرس کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ایبولا کی اس مخصوص قسم کے خلاف دنیا میں تاحال نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی باقاعدہ مؤثر علاج موجود ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر آکسفورڈ کے ماہرین نے جمعے کے روز بتایا کہ وہ جنگی بنیادوں پر ایک ایسی ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جسے وائرس کے بے قابو پھیلاؤ کی صورت میں فوری طور پر استعمال کیا جا سکے۔

جدید ’وائرل ویکٹر‘ ٹیکنالوجی کا استعمال

آکسفورڈ کے محققین کی ٹیم اس وقت ChAdOx1 BDBV نامی ویکسین تیار کر رہی ہے، جو سائنسی دنیا کی جدید ترین ’وائرل ویکٹر‘ (Viral Vector) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہ وہی کامیاب اور آزمودہ طریقہ کار ہے جو اس سے قبل کورونا وائرس (کووڈ-19) سمیت کئی دیگر اچانک ابھرنے والی عالمی وباؤں کی ویکسینز کی تیاری میں کامیابی سے استعمال کیا جا چکا ہے۔

وائرل ویکٹر ویکسین کیا ہے؟ اس جدید طریقہ علاج میں ایک بے ضرر اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس کو بطور ‘ڈیلیوری سسٹم’ (محفوظ قاصد) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وائرس انسانی خلیوں تک مخصوص جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے، جس کی مدد سے ہمارا مدافعتی نظام وائرس کے اصل حصوں کو پہچان کر اس کے خلاف پہلے ہی سے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال یا مدافعت پیدا کر لیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس تیز رفتار سائنسی پیش رفت سے نہ صرف کانگو بلکہ عالمی سطح پر اس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی، اور یہ ویکسین ایبولا کی اس نایاب مگر مہلک قسم کے خلاف ایک اہم ترین ہتھیار ثابت ہو گی۔