سائنسدانوں کی میڈیکل میں اہم پیشرفت، اون سے ہڈیوں کا علاج ممکن بنادیا
Web Desk
21 May 2026
طبی اور سائنسی دنیا میں ایک انتہائی حیران کن اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ بھیڑوں اور دیگر جانوروں کی ‘اون’ (Wool) سے حاصل کردہ قدرتی پروٹین ’’کیراٹن‘‘ (Keratin) انسانی ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے ٹشوز (خلیات) کی دوبارہ نشوونما کے لیے انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت ہڈیوں کی مرمت اور علاج کے لیے روایتی اور مہنگے طریقوں کے ایک بہترین اور قدرتی متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، ‘کنگز کالج لندن’ (King’s College London) کے نامور سائنس دانوں نے اون سے حاصل کردہ کیراٹن پروٹین کا جانوروں پر کامیاب تجربہ کیا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس پروٹین نے متاثرہ حصوں میں ہڈیوں کی تیزی سے بحالی میں حیران کن مدد کی۔ طبی ماہرین کے مطابق، یہ جدید مواد ‘ری جنریٹیو میڈیسن’ (Regenerative Medicine) یعنی خلیات کی دوبارہ پیدائش کے شعبے اور دانتوں کے مختلف سرجیکل پروسیجرز کے لیے ایک مضبوط متبادل بنے گا۔
تحقیق میں یہ بات خاص طور پر سامنے آئی کہ اون کے اس اسٹرکچرل پروٹین نے زندہ جانوروں میں جس ہڈی کو پیدا کیا، وہ موجودہ دور کے مہنگے اور روایتی علاج کے مقابلے میں انسانی جسم کی اصل اور صحت مند قدرتی ہڈی سے حد درجہ مماثلت رکھتی ہے۔
کنگز کالج لندن کی فیکلٹی برائے ڈینٹسٹڑی، اورل اور کرینیوفیشل سائنس کے سربراہ ڈاکٹر شیرف ایلشاروے نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم پہلی بار یہ دکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ اون سے حاصل کردہ مواد زندہ جانوروں میں ہڈیوں کے علاج کے لیے کس قدر کارآمد ہے۔ یہ تحقیق طبی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل ہے، جو کیراٹن کو ایک ایسے ‘بائیو میٹیریل’ (Biomaterial) کی سطح پر لے آیا ہے جو طویل عرصے سے رائج تکلیف دہ طریقہ علاج کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔”
سائنس دانوں نے اس طریقہ کار کے ماحولیاتی اور معاشی فائدے بتاتے ہوئے کہا کہ اون ایک مکمل طور پر قدرتی اور قابلِ تجدید (Renewable) ذریعہ ہے۔ فارمنگ انڈسٹری (بھیڑ پالنے کی صنعت) میں اکثر اون کے فضلے یا خراب حصوں کو ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، لیکن اب اسی ضائع ہونے والے مواد سے کیراٹن حاصل کر کے اسے طبی پیمانے پر بڑے پیمانے پر سستے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
تحقیق کے طریقہ کار کے مطابق، سائنس دانوں نے اون کے کیراٹن سے خاص ‘میمبرینز’ (باریک جھلیاں) تیار کیں اور انہیں کیمیائی عمل سے گزار کر ایک مضبوط اور پائیدار ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ اس کے بعد ٹیم نے لیبارٹری میں سب سے پہلے انسانی ہڈیوں کے سیلز (Cells) کو اس جھلی پر ٹیسٹ کیا۔ ٹیسٹ کے دوران انسانی خلیات نے اس مواد کو فوری قبول کیا، جس کے بعد وہ کامیابی سے بحال ہوئے اور وہاں صحت مند ہڈیوں کی تیز رفتار نشوونما کے مضبوط آثار دیکھے گئے۔
متعلقہ عنوانات
سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال
22 August 2026
گردوں کی خرابی کی 7 اہم علامات، انہیں نظرانداز نہ کریں
21 August 2026
کراچی میں ریبیز سے 11 سالہ بچہ جاں بحق، ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی
21 August 2026
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا
21 August 2026
روزانہ میٹھے مشروبات کا استعمال معدے کے کینسر کا خطرہ دگنا کر دیتا ہے
21 August 2026
تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار
20 August 2026
جلد کے کینسر کا علاج کرنے والی دوا آخری مرحلے میں کامیاب
20 August 2026
ہر شہری کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ ہوگی، ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازمین کی تنخواہ روکنے کا اعلان
19 August 2026