LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی

غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا: اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

Web Desk

22 May 2026

اقوامِ متحدہ (UN) نے دنیا کو ایک بار پھر خطرناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے شدید خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے مسلسل اور جاری محاصرے کے باعث غزہ کی پٹی کا پورا صحت کا نظام (Healthcare System) مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ محاصرے کی وجہ سے اسپتالوں کو چلانے، آپریشن تھیٹرز کو فعال رکھنے اور دیگر اہم ترین طبی آلات کے لیے درکار ضروری ایندھن اور سامان کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹ کے مطابق، غزہ میں طبی مراکز، ایمبولینسوں اور دیگر صحت کی سہولیات پر اب تک کم از کم 22 حملے دستاویزی شواہد (Documentation) کے ساتھ ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف بڑے پیمانے پر قیمتی جانی نقصان ہوا ہے بلکہ زخمیوں کی منتقلی، طبی عملے کی نقل و حمل اور اسپتالوں کے روزمرہ کے معمول کے کاموں میں شدید ترین خلل پڑا ہے۔

طبی بحران کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی المیہ بھی سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، اس وقت معصوم فلسطینیوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا ہے۔ صورتحال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ غزہ میں ہر چار میں سے تین خاندان (یعنی 75 فیصد آبادی) اب اپنی بقا کے لیے صرف ان واٹر ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں جو امدادی ٹیموں کی جانب سے بمشکل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

مختلف بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر روزانہ تقریباً 24 ہزار مکعب میٹر پانی مختلف پائپ لائنوں اور تقریباً 2 ہزار مخصوص مقامات کے ذریعے تقسیم تو کیا جا رہا ہے، تاہم وہاں پھنسے لاکھوں محصورین کی روزمرہ کی بنیادی ضروریات کے مقابلے میں پانی کی یہ مقدار انتہائی ناکافی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی فوری طور پر ختم نہ کی گئی تو پانی کی کمی اور اسپتالوں کی بندش سے ہلاکتوں میں ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔