LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا: اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

Web Desk

22 May 2026

اقوامِ متحدہ (UN) نے دنیا کو ایک بار پھر خطرناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے شدید خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے مسلسل اور جاری محاصرے کے باعث غزہ کی پٹی کا پورا صحت کا نظام (Healthcare System) مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ محاصرے کی وجہ سے اسپتالوں کو چلانے، آپریشن تھیٹرز کو فعال رکھنے اور دیگر اہم ترین طبی آلات کے لیے درکار ضروری ایندھن اور سامان کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹ کے مطابق، غزہ میں طبی مراکز، ایمبولینسوں اور دیگر صحت کی سہولیات پر اب تک کم از کم 22 حملے دستاویزی شواہد (Documentation) کے ساتھ ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف بڑے پیمانے پر قیمتی جانی نقصان ہوا ہے بلکہ زخمیوں کی منتقلی، طبی عملے کی نقل و حمل اور اسپتالوں کے روزمرہ کے معمول کے کاموں میں شدید ترین خلل پڑا ہے۔

طبی بحران کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی المیہ بھی سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، اس وقت معصوم فلسطینیوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا ہے۔ صورتحال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ غزہ میں ہر چار میں سے تین خاندان (یعنی 75 فیصد آبادی) اب اپنی بقا کے لیے صرف ان واٹر ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں جو امدادی ٹیموں کی جانب سے بمشکل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

مختلف بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر روزانہ تقریباً 24 ہزار مکعب میٹر پانی مختلف پائپ لائنوں اور تقریباً 2 ہزار مخصوص مقامات کے ذریعے تقسیم تو کیا جا رہا ہے، تاہم وہاں پھنسے لاکھوں محصورین کی روزمرہ کی بنیادی ضروریات کے مقابلے میں پانی کی یہ مقدار انتہائی ناکافی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی فوری طور پر ختم نہ کی گئی تو پانی کی کمی اور اسپتالوں کی بندش سے ہلاکتوں میں ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔