LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے زیراہتمام نیشنل سکیورٹی ورکشاپ، اساتذہ کی شرکت

Web Desk

23 May 2026

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی “نیشنل سکیورٹی اینڈ سٹریٹجک لیڈر شپ 2026ء” ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد قومی سلامتی اور تذویراتی امور پر اعلیٰ تعلیمی قیادت کو اعتماد میں لینا تھا۔ اس اہم ترین قومی ورکشاپ میں ملک بھر کی 200 سے زائد سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر ترین پروفیسرز نے بھرپور شرکت کی، جو ملکی تعلیمی اور اسٹریٹجک حلقوں کے مابین گہرے روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

ورکشاپ کے دوران ایک خصوصی اور انتہائی اہم نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے کی۔ انہوں نے شرکاء کے ساتھ اپنے طویل فوجی و سیکیورٹی تجربات کی روشنی میں پڑوسی ملک بھارت کی موجودہ سیاسی و نظریاتی صورتحال پر سیرحاصل گفتگو کی۔ نشست کے دوران بھارت میں ہندوتوا (Hindutva) سے متاثرہ انتہا پسندانہ سیاست، اس کے تذویراتی رجحانات (Strategic Trends) اور خطے کی سلامتی پر پڑنے والے گہرے نظریاتی اثرات کا باریک بینی سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے اعلیٰ تعلیمی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ بھارتی منظرنامے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت میں سیکیولرازم کا جنازہ نکل چکا ہے اور وہاں بسنے والی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر جاری انسانیت سوز مظالم اب روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان پرتشدد واقعات کو ناصرف مودی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ بھارتی عدالتی نظام بھی اب ان انتہا پسند عناصر کو کھلی چھوٹ اور سرپرستی فراہم کر رہا ہے، جو عالمی امن اور خاص طور پر جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے ایک مہیب خطرہ ہے۔