LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نوابشاہ میں ایف آئی اے کی کارروائی، منشیات اور حوالہ ہنڈی میں ملوث 6 افراد گرفتار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران دورہ مکمل، ایران میں اہم مذاکرات اور ملاقاتیں وزیراعظم 4 روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، اہم معاہدوں پر دستخط اور اعلیٰ سطح ملاقاتیں طے بغیر کسی ایڈوانس کے خواتین کو پنک سکوٹیز دے رہے ہیں، شرجیل میمن آئی ایس پی آر کے زیراہتمام نیشنل سکیورٹی ورکشاپ، اساتذہ کی شرکت بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر آپریشن، 8 دہشت گرد ہلاک، ایک اہلکار شہید پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات مضبوط، باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز چین: کوئلے کی کان میں دھماکے، 90 افراد ہلاک، کئی زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عباس عراقچی سے ملاقات، ایران امریکا مذاکرات پر تبادلہ خیال گلی،محلوں میں آلائشیں پھینکنے والوں کو 50ہزار روپے جرمانہ ہو گا: مریم نواز امریکا کے شپ یارڈ میں دھماکا، ایک شخص ہلاک، 36 افراد زخمی وزیرِ اعظم شہباز شریف چین کے چار روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں ہانگژو روانہ 2 سال پہلے امریکہ مردہ ملک تھا، اب ہر کوئی عزت کر رہا ہے: ٹرمپ امریکہ میں گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ایئرچیف کی ترک ہم منصب سے ملاقات، تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین: کوئلے کی کان میں دھماکے، 90 افراد ہلاک، کئی زخمی

Web Desk

23 May 2026

چین کے شہر چینگ زی میں واقع لیوشین یو کوئلہ کان میں گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے ہولناک دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شام اس وقت پیش آیا جب کان کے اندر اچانک زہریلی گیس جمع ہو گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک شدید دھماکے کی شکل اختیار کر لی۔ حادثے کے فوراً بعد ابتدائی طور پر 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم جیسے جیسے ریسکیو آپریشن آگے بڑھا، ملبے سے مزید لاشیں نکلنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہو گیا اور متعدد زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

چینی حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے کئی مزدور اب بھی کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں چوبیس گھنٹے جاری ہیں۔ کان کنی کے اس مہیب حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکام نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ چینی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کان میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور غفلت برتنے کے پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اس ہولناک واقعے کے ذمہ دار پائے جانے والے عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔