LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

چین: کوئلے کی کان میں دھماکے، 90 افراد ہلاک، کئی زخمی

Web Desk

23 May 2026

چین کے شہر چینگ زی میں واقع لیوشین یو کوئلہ کان میں گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے ہولناک دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شام اس وقت پیش آیا جب کان کے اندر اچانک زہریلی گیس جمع ہو گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک شدید دھماکے کی شکل اختیار کر لی۔ حادثے کے فوراً بعد ابتدائی طور پر 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم جیسے جیسے ریسکیو آپریشن آگے بڑھا، ملبے سے مزید لاشیں نکلنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہو گیا اور متعدد زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

چینی حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے کئی مزدور اب بھی کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں چوبیس گھنٹے جاری ہیں۔ کان کنی کے اس مہیب حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکام نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ چینی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کان میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور غفلت برتنے کے پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اس ہولناک واقعے کے ذمہ دار پائے جانے والے عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔