LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا

وزیراعظم 4 روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، اہم معاہدوں پر دستخط اور اعلیٰ سطح ملاقاتیں طے

Web Desk

23 May 2026

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے 4 روزہ اہم اور اسٹریٹجک دورۂ چین کے پہلے مرحلے میں چینی شہر ہانگژو (Hangzhou) پہنچ گئے ہیں۔ شیاؤ شین بین الاقوامی ائیرپورٹ ہانگژو پہنچنے پر ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ اور پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے وزیرِ اعظم اور ان کے وفد کا گرمجوشی سے شاندار استقبال کیا۔

وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی سیاسی و معاشی وفد بھی موجود ہے، جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔

دورے مصروفیات اور اہم ملاقاتیں

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اس اہم ترین دورے کے ایجنڈے میں درج ذیل مصروفیات شامل ہیں:

  • صوبائی قیادت سے ملاقات: ہانگژو میں قیام کے دوران وزیرِ اعظم کی ژجیانگ صوبے کے بااثر پارٹی سیکریٹری وانگ ہاؤ سے اہم ملاقات ہوگی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر گفتگو کی جائے گی۔

  • پاک چین بزنس فورم: وزیرِ اعظم چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے (CPEC Phase-2) کے تحت پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے مابین تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے منعقدہ ایک بڑے بزنس فورم میں خصوصی شرکت کریں گے۔

  • صنعتی و کاروباری ملاقاتیں: دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی چین کی معروف اور عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEOs) سے اہم ترین ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

تجارتی معاہدے اور علی بابا ہیڈکوارٹر کا دورہ

اس دورے کا ایک اہم ترین پہلو ڈیجیٹل اکانومی اور ای-کامرس میں تعاون بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف چین کے مشہورِ زمانہ ٹیکنالوجی اور ای-کامرس جائنٹ علی بابا (Alibaba) کے عالمی ہیڈکوارٹر کا خصوصی دورہ بھی کریں گے۔

علی بابا ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارتی و تکنیکی تعاون کی مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔ معاشی حلقوں کے مطابق، ان جدید کاروباری معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے سے پاکستان اور چین کے مابین روایتی سیکیورٹی تعلقات کے ساتھ ساتھ جدید تجارتی، ڈیجیٹل اور معاشی روابط کو مزید استحکام اور نئی بلندی ملے گی۔