LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مولانا زیرک سیاستدان، اسمبلی میں بیان دے کر ان سے غلطی ہوئی: رانا تنویر حسین وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: حتمی فیصلوں کو بار بار چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے 14 شہروں کے ماسٹر پلان پر کام جاری ہے: مراد علی شاہ امریکی فوج کا 2 ماہی گیر کشتیوں پر مبینہ حملہ، 4 افراد متاثر ہوئے: ایرانی میڈیا دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو جواب کے اختتام کا وقت ایران خود طے کرے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے قطر کا پاکستانیوں کے لیے 30 دن کے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا: عباس عراقچی

صرافہ مارکیٹ میں استحکام: مقامی اور عالمی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں برقرار

Web Desk

19 May 2026

کراچی: مقامی اور عالمی صرافہ بازاروں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی استحکام دیکھا گیا ہے، جہاں دونوں قیمتی دھاتوں کے نرخوں میں کوئی اتار چڑھاؤ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 4 لاکھ 77 ہزار 162 روپے پر برقرار رہی۔

اسی طرح، ملکی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی ردوبدل کے 8 ہزار 99 روپے کی سطح پر مکمل طور پر مستحکم ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب، بین الاقوامی صرافہ مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیوں کے دوران قیمتیں ٹھہری رہیں، جہاں عالمی بازار میں فی اونس سونا 4 ہزار 548 ڈالر کی بلند سطح پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ عالمی اور مقامی سطح پر سرمایہ کاروں کی محتاط پالیسی کے باعث قیمتوں میں یہ یکسانیت دیکھی جا رہی ہے۔