صدر ٹرمپ کو ایران کیخلاف مزید حملوں کے معاملے پر شدید دباؤ کا سامنا
Web Desk
19 May 2026
واشنگٹن: امریکا کے سابق سفیر ہنری اینشر نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف مزید فوجی حملوں کے معاملے پر شدید اندرونی و بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ اس وقت واشنگٹن کے پاس موجود کوئی بھی عسکری آپشن زیادہ مؤثر یا بہتر نظر نہیں آ رہا۔ الجزیرہ ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر نے تجزیہ پیش کیا کہ اگر صدر ٹرمپ ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ ناکام ہو جاتی ہے—یعنی ایران اپنے علاقائی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا—تو ٹرمپ کو ہزیمت اور شدید ترین تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہنری اینشر کا مزید کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کسی محدود عسکری کارروائی کا انتخاب کرتے ہیں، تو وہ تب بھی تنقید کی زد میں آئیں گے۔ ایک طرف انہیں جنگ مخالف حلقوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہوگا اور دوسری طرف ان کے اپنے سخت گیر حامی ان پر ناراض ہوں گے جو چاہتے ہیں کہ ایران کا ‘کام مکمل کیا جائے’۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ عوامی سطح پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کے پاس اب بھی مزید فوجی کارروائیوں کا متبادل موجود ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ ایسا کوئی بھی قدم نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہوگا بلکہ اس کی قیمت امریکا کو بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔ سابق سفیر کے مطابق، انہی وجوہات کی بنا پر اب ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملوں کے امکانات پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
7 September 2026
ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ
7 September 2026
امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر
7 September 2026
ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز
7 September 2026
امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا
7 September 2026
میامی: کارگو طیارہ رن وے سے اتر کر گاڑیوں سے جا ٹکرایا، 5 افراد ہلاک
7 September 2026
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا
6 September 2026
آبنائے ہرمز سے روزانہ 90 لاکھ بیرل تیل گزر رہا ہے، امریکی وزیر توانائی
6 September 2026