LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

صدر ٹرمپ کو ایران کیخلاف مزید حملوں کے معاملے پر شدید دباؤ کا سامنا

Web Desk

19 May 2026

واشنگٹن: امریکا کے سابق سفیر ہنری اینشر نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف مزید فوجی حملوں کے معاملے پر شدید اندرونی و بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ اس وقت واشنگٹن کے پاس موجود کوئی بھی عسکری آپشن زیادہ مؤثر یا بہتر نظر نہیں آ رہا۔ الجزیرہ ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر نے تجزیہ پیش کیا کہ اگر صدر ٹرمپ ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ ناکام ہو جاتی ہے—یعنی ایران اپنے علاقائی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا—تو ٹرمپ کو ہزیمت اور شدید ترین تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہنری اینشر کا مزید کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کسی محدود عسکری کارروائی کا انتخاب کرتے ہیں، تو وہ تب بھی تنقید کی زد میں آئیں گے۔ ایک طرف انہیں جنگ مخالف حلقوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہوگا اور دوسری طرف ان کے اپنے سخت گیر حامی ان پر ناراض ہوں گے جو چاہتے ہیں کہ ایران کا ‘کام مکمل کیا جائے’۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ عوامی سطح پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کے پاس اب بھی مزید فوجی کارروائیوں کا متبادل موجود ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ ایسا کوئی بھی قدم نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہوگا بلکہ اس کی قیمت امریکا کو بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔ سابق سفیر کے مطابق، انہی وجوہات کی بنا پر اب ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملوں کے امکانات پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔