LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت میں 4سال بعد پیٹرول کی قیمت میں 3روپے اضافہ، اپوزیشن کا شدیداحتجاج ہمیشہ عوام دوست سیاست کی، بلاول بھٹو، بلوچستان میں 11ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کردیا مسلح افواج علاقائی سالمیت اور آزادی کا بھرپور دفاع کریں گی، ایرانی آرمی چیف  ایران کا جوہری پروگرام 20سال کےلیے معطل کرنے پر اعتراض نہیں، امریکی صدر سیاسی صف بندی؛ پیر پگارا اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، سندھ میں حکومت مخالف تحریک پر مشاورت پنکی کے 869 موبائل نمبرز، افریقی شہری بھی منشیات فروشی میں ملوث ہیں: ایڈیشنل آئی جی سندھ امریکہ سنجیدگی دکھائے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں: عراقچی بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم سے چین کے کاروباری وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر اظہار اطمینان محسن نقوی کی امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق ایران کے خلاف فوجی راستہ مکمل ناکام، عزت دیں، عزت لیں: عباس عراقچی امریکی ناکا بندی سے کیوبا میں پٹرول ختم، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو دلائل دینے کیلئے مہلت چینی صدر سے دوبارہ ملاقات، تجارتی معاہدے، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے: ٹرمپ

گورنر اسٹیٹ بینک کا کراچی چیمبر میں خطاب؛ زرمبادلہ ذخائر 3 ارب سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

Web Desk

15 May 2026

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے دورے کے موقع پر تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال کا تفصیلی نقشہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے تین سال قبل کے مقابلے میں موجودہ حالات کو نمایاں طور پر بہتر قرار دیتے ہوئے اہم معاشی اعشاریے جاری کیے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2023ء کے مقابلے میں 2026ء میں لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھلنے کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل ماہانہ درآمدات اوسطاً 3 ارب ڈالر تھیں جو اب بڑھ کر 5 ارب ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر چکی ہیں۔جمیل احمد نے اصلاحات کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:

  • پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تین سالوں میں 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

  • حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر (Remittances) میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے، جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

 گورنر کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور خام تیل کی قیمتوں جیسے بیرونی چیلنجز موجود ہیں، تاہم اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہے کہ مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 1 فیصد کے درمیان (جو کہ کم ترین سطح ہے) رہے گا۔بیرونی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً مستحکم رہا ہے۔

  • چار سال قبل مجموعی قرضہ 102 ارب ڈالر تھا جو مارچ 2026ء میں 103 ارب ڈالر ہے۔

  • اسٹیٹ بینک نے قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی کر دی ہے اور اب زیادہ انحصار ملٹی لیٹرل قرضوں پر ہے جن کی شرحِ سود کم ہوتی ہے