LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا امریکا کا چین سے منسلک بڑا سائبر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 162 سے زائد افراد ہلاک، 403 لاپتہ امریکا، اسرائیل آئی اے ای اے پر ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں: ایران دشمن کا کوئی بھی غلط اقدام فوری جوابی کارروائی کا باعث بنے گا: ایرانی فوج یوکرینی حملے: روس کا اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کشیدگی میں کمی کی کوششیں: قطری وزیراعظم آج ایران کا دورہ کریں گے اقوام متحدہ کا اسرائیل سمیت تمام فریقین سے لبنان میں بلاامتیاز کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

گورنر اسٹیٹ بینک کا کراچی چیمبر میں خطاب؛ زرمبادلہ ذخائر 3 ارب سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

Web Desk

15 May 2026

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے دورے کے موقع پر تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال کا تفصیلی نقشہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے تین سال قبل کے مقابلے میں موجودہ حالات کو نمایاں طور پر بہتر قرار دیتے ہوئے اہم معاشی اعشاریے جاری کیے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2023ء کے مقابلے میں 2026ء میں لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھلنے کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل ماہانہ درآمدات اوسطاً 3 ارب ڈالر تھیں جو اب بڑھ کر 5 ارب ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر چکی ہیں۔جمیل احمد نے اصلاحات کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:

  • پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تین سالوں میں 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

  • حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر (Remittances) میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے، جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

 گورنر کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور خام تیل کی قیمتوں جیسے بیرونی چیلنجز موجود ہیں، تاہم اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہے کہ مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 1 فیصد کے درمیان (جو کہ کم ترین سطح ہے) رہے گا۔بیرونی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً مستحکم رہا ہے۔

  • چار سال قبل مجموعی قرضہ 102 ارب ڈالر تھا جو مارچ 2026ء میں 103 ارب ڈالر ہے۔

  • اسٹیٹ بینک نے قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی کر دی ہے اور اب زیادہ انحصار ملٹی لیٹرل قرضوں پر ہے جن کی شرحِ سود کم ہوتی ہے