LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف

بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ

Web Desk

15 May 2026

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث رہا، جہاں حکومتی ارکان اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کو جیل میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم قانون ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت بار بار وفاق پر حملہ آور ہو رہی ہے، جسے “اینٹی اسٹیٹ” بیانیہ قرار دیا جا سکتا ہے، اور وہ اس کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کامیاب ہو جائے تو وہ انقلاب کہلاتا ہے، ناکام ہو جائے تو غداری”۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب کروائی جائے گی اور انہیں ان کی مرضی کے ہسپتال میں کب منتقل کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے محمود خان اچکزئی کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ انصاف کے حصول کے لیے وہ 15 مرتبہ سپریم کورٹ اور 24 مرتبہ ہائیکورٹ جا چکے ہیں لیکن انہیں ریلیف نہیں ملا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو آ کر بانی پی ٹی آئی کی اصل حالت کے بارے میں بتا سکے۔