LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی

بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ

Web Desk

15 May 2026

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث رہا، جہاں حکومتی ارکان اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کو جیل میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم قانون ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت بار بار وفاق پر حملہ آور ہو رہی ہے، جسے “اینٹی اسٹیٹ” بیانیہ قرار دیا جا سکتا ہے، اور وہ اس کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کامیاب ہو جائے تو وہ انقلاب کہلاتا ہے، ناکام ہو جائے تو غداری”۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب کروائی جائے گی اور انہیں ان کی مرضی کے ہسپتال میں کب منتقل کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے محمود خان اچکزئی کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ انصاف کے حصول کے لیے وہ 15 مرتبہ سپریم کورٹ اور 24 مرتبہ ہائیکورٹ جا چکے ہیں لیکن انہیں ریلیف نہیں ملا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو آ کر بانی پی ٹی آئی کی اصل حالت کے بارے میں بتا سکے۔