LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات پاکستانی معیشت کے لیے بڑی کامیابی؛ مئی 2026 میں تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی، سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن،6 خارجی ہلاک آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، وزارت خزانہ ثاقب چدھڑ پر مومنہ کو ہراساں کرنے کا مقدمہ درج، عبوری ضمانت منظور سپریم جوڈیشل کونسل، پالیسی ساز کمیٹی اور عدالتی کمیشن کے اجلاس طلب گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابی مہم کا آج آخری روز پاک چین دوستی 75 برس بعد بھی اعتماد اور شراکت داری کی مضبوط مثال قرار ایران سے افزودہ یورینیم معاہدہ کیے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ اقوام متحدہ کے سربراہ کی جنوبی لبنان میں امن دستے کے اہلکار کی ہلاکت کی مذمت ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ جی بی الیکشن کو پنجاب اور اسلام آباد سے مینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حسن مرتضی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب

بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ

Web Desk

15 May 2026

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث رہا، جہاں حکومتی ارکان اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کو جیل میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم قانون ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت بار بار وفاق پر حملہ آور ہو رہی ہے، جسے “اینٹی اسٹیٹ” بیانیہ قرار دیا جا سکتا ہے، اور وہ اس کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کامیاب ہو جائے تو وہ انقلاب کہلاتا ہے، ناکام ہو جائے تو غداری”۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب کروائی جائے گی اور انہیں ان کی مرضی کے ہسپتال میں کب منتقل کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے محمود خان اچکزئی کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ انصاف کے حصول کے لیے وہ 15 مرتبہ سپریم کورٹ اور 24 مرتبہ ہائیکورٹ جا چکے ہیں لیکن انہیں ریلیف نہیں ملا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو آ کر بانی پی ٹی آئی کی اصل حالت کے بارے میں بتا سکے۔