LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف

ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

15 May 2026

بیجنگ/ ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہِ چین کے بعد اب روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی بیجنگ پہنچنے والے ہیں۔ روسی ایوانِ صدر (کریملن) نے تصدیق کی ہے کہ صدر پوتن بہت جلد چین کا دورہ کریں گے، جس کے لیے تمام سفارتی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ روسی صدر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان گزشتہ برسوں میں گہرے مراسم رہے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما اب تک 40 سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کی حالیہ ملاقات ستمبر میں بیجنگ میں ہوئی تھی، اور اب دوبارہ پوتن کا وہاں جانا دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی ماہرین صدر پوتن کے اس دورے کے وقت (Timing) کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہِ چین کے فوراً بعد روسی صدر کا وہاں پہنچنا عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتی ہوئی صف بندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دورہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال، تجارتی پالیسیوں اور خطے کی سیکیورٹی پر دور رس اور نتیجہ خیز اثرات مرتب کرے گا۔