LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی

ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

15 May 2026

بیجنگ/ ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہِ چین کے بعد اب روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی بیجنگ پہنچنے والے ہیں۔ روسی ایوانِ صدر (کریملن) نے تصدیق کی ہے کہ صدر پوتن بہت جلد چین کا دورہ کریں گے، جس کے لیے تمام سفارتی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ روسی صدر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان گزشتہ برسوں میں گہرے مراسم رہے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما اب تک 40 سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کی حالیہ ملاقات ستمبر میں بیجنگ میں ہوئی تھی، اور اب دوبارہ پوتن کا وہاں جانا دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی ماہرین صدر پوتن کے اس دورے کے وقت (Timing) کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہِ چین کے فوراً بعد روسی صدر کا وہاں پہنچنا عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتی ہوئی صف بندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دورہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال، تجارتی پالیسیوں اور خطے کی سیکیورٹی پر دور رس اور نتیجہ خیز اثرات مرتب کرے گا۔