LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ سنجیدگی دکھائے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں: عراقچی بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم سے چین کے کاروباری وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر اظہار اطمینان محسن نقوی کی امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق ایران کے خلاف فوجی راستہ مکمل ناکام، عزت دیں، عزت لیں: عباس عراقچی امریکی ناکا بندی سے کیوبا میں پٹرول ختم، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو دلائل دینے کیلئے مہلت چینی صدر سے دوبارہ ملاقات، تجارتی معاہدے، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے: ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین دسمبر 2026 تک سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ عمان کے قریب مشتبہ ڈرون حملہ، بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز سمندر میں ڈوب گیا پاکستان ویمن کی زمبابوے کے خلاف کامیابی، دوسرے میچ میں 67 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کیلئے تاریخی کامیابی، عالمی سرمایہ کاروں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، محمد اورنگزیب دورہ چین: جاسوسی کے خدشات،  امریکی حکام ذاتی موبائل فون اور کمپیوٹر ساتھ نہیں لائے

ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

15 May 2026

بیجنگ/ ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہِ چین کے بعد اب روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی بیجنگ پہنچنے والے ہیں۔ روسی ایوانِ صدر (کریملن) نے تصدیق کی ہے کہ صدر پوتن بہت جلد چین کا دورہ کریں گے، جس کے لیے تمام سفارتی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ روسی صدر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان گزشتہ برسوں میں گہرے مراسم رہے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما اب تک 40 سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کی حالیہ ملاقات ستمبر میں بیجنگ میں ہوئی تھی، اور اب دوبارہ پوتن کا وہاں جانا دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی ماہرین صدر پوتن کے اس دورے کے وقت (Timing) کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہِ چین کے فوراً بعد روسی صدر کا وہاں پہنچنا عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتی ہوئی صف بندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دورہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال، تجارتی پالیسیوں اور خطے کی سیکیورٹی پر دور رس اور نتیجہ خیز اثرات مرتب کرے گا۔