LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف

امریکی ناکا بندی سے کیوبا میں پٹرول ختم، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے

Web Desk

15 May 2026

ہوانا: امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور امریکی بحری ناکابندی کے باعث کیوبا اس وقت تاریخ کے بدترین توانائی بحران کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ ایندھن کی شدید قلت کے نتیجے میں ملک کے کئی حصے مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گئے ہیں، جس پر حکومت نے پٹرول اور بجلی کے شدید بحران کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے صبر و تحمل کی اپیل کی ہے۔کیوبا کے وزیرِ توانائی نے ہنگامی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ملک میں تیل اور ڈیزل کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور حکومت صرف مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس اور خام تیل پر انحصار کر رہی ہے، جو ملکی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے مشرقی علاقوں میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں جہاں روزانہ 19 گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔ ہوانا سمیت مختلف شہروں میں عوام نے مسلسل لوڈشیڈنگ کے خلاف برتن بجا کر احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل کر حکومت سے بجلی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ کیوبا کے صدر نے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے اسے “توانائی کا محاصرہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں اور تیل فراہم کرنے والے ممالک کو ملنے والی دھمکیوں نے بحران کو سنگین بنا دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے بعد اب کیوبا کی باری ہے، جہاں ان کے بقول ایک امریکہ مخالف حکومت قائم ہے۔ اگرچہ امریکی وزیرِ خارجہ نے 100 ملین ڈالر امداد کی پیشکش کی ہے، تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ یہ رقم کیوبن حکومت کے بجائے کیتھولک چرچ کے ذریعے تقسیم کی جائے گی۔کیوبا کا بجلی کا نظام 40 سال پرانے تھرمل پاور پلانٹس پر منحصر ہے جو بار بار خرابی کا شکار ہو رہے ہیں۔ خوراک اور ادویات کی پہلے سے موجود قلت کے ساتھ اب توانائی کے اس بحران نے عوامی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ جنوری سے اب تک امریکی سختی کے باعث صرف ایک روسی آئل ٹینکر ہی کیوبا پہنچ پایا ہے، جس سے ایندھن کی طلب اور رسد میں 2 ہزار میگاواٹ سے زائد کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔