پنکی کے 869 موبائل نمبرز، افریقی شہری بھی منشیات فروشی میں ملوث ہیں: ایڈیشنل آئی جی سندھ
Web Desk
15 May 2026
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے سینٹرل پولیس آفس میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے منشیات فروشی کے بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری اور اس سے جڑے چونکا دینے والے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی کرائم عامر فاروقی، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ شیراز نذیر اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ ملزمہ پنکی کی گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ڈیڑھ کلو کوکین اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد ہوا، جس پر تھانہ گارڈن میں مقدمہ درج کر کے اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمہ 2014 سے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہے اور 2018 سے کراچی میں سرگرم تھی، تاہم جب وہ پولیس کے رڈار پر آئی تو لاہور فرار ہو گئی تھی۔
پولیس چیف نے انکشاف کیا کہ ملزمہ کے فون سے 869 نمبرز ملے ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پنکی کا نیٹ ورک بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے سہولت کار بیرون ملک بھی موجود ہیں۔ ملزمہ کے پاس 9 رائیڈرز تھے، جن میں سے 8 کا تعلق پنجاب اور ایک کا کراچی سے ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار اہم نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے کے لیے بھیج دیے ہیں۔
پنکی پر قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ایک نشے کے عادی شخص کی ہلاکت کے بعد درج ہوا، جس کے فون سے ملزمہ کا نمبر برآمد ہوا تھا۔ پولیس چیف نے واضح کیا کہ انمول (پنکی) جس جس کا نام لے رہی ہے، پولیس اس کی مکمل تصدیق کرے گی اور ملوث افراد کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے تاکید کی کہ بغیر ثبوت کسی کی کردار کشی نہ کی جائے۔ کیس کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے سی ٹی ڈی (CTD) کو فنانشل کرائمز کے معاملات سونپے گئے ہیں، جبکہ ایف آئی اے (FIA) منی لانڈرنگ کے پہلوؤں پر تحقیقات کرے گی۔ ملزمہ کے متعدد بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن کی چھان بین جاری ہے۔
ایڈیشنل آئی جی نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر ملزمہ کی پیشی اور ریکوری کی ویڈیوز وائرل کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس نیٹ ورک میں ملوث ہر شخص کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلے میں پنجاب پولیس اور اے این ایف (ANF) سے بھی رابطہ قائم کر لیا گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو
14 July 2026
سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم
14 July 2026
آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی
14 July 2026
کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم
14 July 2026
شہدا قوم کا فخر، قربانیوں کو معمولی قرار دینا افسوسناک ہے: شرجیل میمن
14 July 2026
امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین
14 July 2026
ڈاکٹر آکاش کے قتل کا معاملہ؛ حیدرآباد پولیس نے اسلم بابا گروپ کے 2 مبینہ قاتل گرفتار
14 July 2026
مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن
14 July 2026