وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا
Web Desk
30 April 2026
وفاقی آئینی عدالت نے سندھ حکومت کے ایک پروجیکٹ میں گریڈ 17، 18 اور 19 میں براہِ راست بھرتیوں کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران حیرت کا اظہار کیا کہ پبلک سروس کمیشن کے بغیر اتنے اعلیٰ گریڈز پر بھرتیاں کیسے کی گئیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ 11 افراد کو ایک پروجیکٹ کے تحت بھرتی کیا گیا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے، اور سندھ ہائیکورٹ نے ان ملازمین کا معاملہ پبلک سروس کمیشن کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے بھرتیوں میں غلطی ہوئی ہے جسے درست کرنا ضروری ہے، انہوں نے ملازمین کو مشورہ دیا کہ اگر وہ 8 سال ملازمت کر چکے ہیں تو پبلک سروس کمیشن کا امتحان کلیئر کریں۔ عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ
30 April 2026
ملک بھر میں گیس بحران بڑھنے لگا، گھریلو کنکشن پر پاپندی
30 April 2026
حامد خان کا وفاقی آئینی عدالت کو ماننے سے انکار؛ چیف جسٹس سے ججز ٹرانسفر کیس میں مداخلت کا مطالبہ
30 April 2026
شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ نارمل پاسپورٹ کی مدت 21 سے کم کر کے 14 دن مقرر
30 April 2026
پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت
30 April 2026
وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم
30 April 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا
30 April 2026
بشریٰ بی بی کی بیٹی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور
30 April 2026