وٹامن ڈی فائدہ یا نقصان؟ کن افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے
Web Desk
28 April 2026
طبی ماہرین نے وٹامن ڈی کے غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ استعمال کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے سپلیمنٹس لینا فائدے کے بجائے شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے جو جسم سے آسانی سے خارج نہیں ہوتا، اور اس کی زیادتی خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھا دیتی ہے جسے ‘ہائپرکیلسمیا’ کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں متلی، الٹی، شدید تھکن، بار بار پیشاب آنا اور گردوں کو نقصان پہنچنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر 50 ہزار آئی یو (IU) جیسی بھاری خوراک کا بار بار استعمال جسم میں زہریلے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وٹامن ڈی کا استعمال ہمیشہ خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
موسیقی ذہنی دباؤ سے بحالی میں مددگار قرار، تحقیق
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
18 September 2026
ایم ڈی کیٹ 2026: امتحانی پرچے سخت سکیورٹی میں 14 شہروں کیلئے روانہ
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026