LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
متحدہ عرب امارات کی تیل پیداکرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک اوراوپیک پلس سے علیحدگی آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی فتح ٹو میزائل سسٹم کی کامیاب مشق جوڈیشل کمیشن، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کیانی،جسٹس بابر،جسٹس ثمن کے تبادلوں کی منظوری حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی: وزیراعظم پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب صدر آصف علی زرداری کا ماؤ زے تُنگ کے آبائی شہر کا دورہ؛ عظیم چینی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا بجلی صارفین پر مزید بوجھ؛ قیمتوں میں 26 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان، نیپرا آج سماعت کرے گی آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اجلاس 8 مئی کو طلب؛ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار اقوام متحدہ میں کانفرنس: امریکا اور ایران کے درمیان تندو تیز جملوں کا تبادلہ ایران نے 2 بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے امریکی اقدام کو مسلح ڈکیتی قرار دیدیا امریکا نے مزید مذاکرات کی درخواست کی جس پر غور کررہے ہیں: عباس عراقچی واشنگٹن فائرنگ کیس، ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی روس کی امریکا اورایران کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش

وٹامن ڈی فائدہ یا نقصان؟ کن افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے

Web Desk

28 April 2026

طبی ماہرین نے وٹامن ڈی کے غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ استعمال کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے سپلیمنٹس لینا فائدے کے بجائے شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے جو جسم سے آسانی سے خارج نہیں ہوتا، اور اس کی زیادتی خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھا دیتی ہے جسے ‘ہائپرکیلسمیا’ کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں متلی، الٹی، شدید تھکن، بار بار پیشاب آنا اور گردوں کو نقصان پہنچنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر 50 ہزار آئی یو (IU) جیسی بھاری خوراک کا بار بار استعمال جسم میں زہریلے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وٹامن ڈی کا استعمال ہمیشہ خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔