LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
متحدہ عرب امارات کی تیل پیداکرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک اوراوپیک پلس سے علیحدگی آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی فتح ٹو میزائل سسٹم کی کامیاب مشق جوڈیشل کمیشن، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کیانی،جسٹس بابر،جسٹس ثمن کے تبادلوں کی منظوری حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی: وزیراعظم پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب صدر آصف علی زرداری کا ماؤ زے تُنگ کے آبائی شہر کا دورہ؛ عظیم چینی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا بجلی صارفین پر مزید بوجھ؛ قیمتوں میں 26 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان، نیپرا آج سماعت کرے گی آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اجلاس 8 مئی کو طلب؛ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار اقوام متحدہ میں کانفرنس: امریکا اور ایران کے درمیان تندو تیز جملوں کا تبادلہ ایران نے 2 بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے امریکی اقدام کو مسلح ڈکیتی قرار دیدیا امریکا نے مزید مذاکرات کی درخواست کی جس پر غور کررہے ہیں: عباس عراقچی واشنگٹن فائرنگ کیس، ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی روس کی امریکا اورایران کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش

چین میں 14 سالہ لڑکے کا حیران کن کارنامہ

Web Desk

27 April 2026

چین سے تعلق رکھنے والے ایک 14 سالہ طالب علم، چی جیانگ پنگ نے اپنی غیر معمولی تکنیکی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک فعال ٹربو جیٹ انجن تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سائنسی کامیابی نے نہ صرف سوشل میڈیا پر دھوم مچائی ہے بلکہ ہوا بازی کے ماہرین کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔

کاغذی جہازوں سے جیٹ انجن تک کا سفر: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چی جیانگ پنگ کی ہوا بازی (Aviation) میں دلچسپی بچپن میں کاغذی جہازوں کے اڑانے اور ہوا کے اصولوں کو سمجھنے سے شروع ہوئی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کئی گھنٹے ایروڈائنامکس کی پیچیدہ کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے، جس نے ان کے سائنسی تجسس کو ایک نئی سمت دی۔

تکنیکی مہارت اور ڈیزائننگ: اس کم عمر سائنسدان نے محض مطالعہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جدید انجینئرنگ ٹولز پر بھی دسترس حاصل کی:

  • سافٹ ویئر کا استعمال: انہوں نے کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن (CAD) سافٹ ویئرز سیکھے تاکہ انجن کے دو بعدی (2D) اور تین بعدی (3D) ماڈلز خود تیار کر سکیں۔

  • انجینئرنگ تجزیہ: ہوا کے دباؤ اور درجہ حرارت جیسے پیچیدہ عوامل کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اپنے منصوبے کا خاکہ تیار کیا۔

  • تخلیقی سوچ: چی جیانگ پنگ کے مطابق، انہوں نے انٹرنیٹ سے رہنمائی ضرور لی لیکن کسی بھی ڈیزائن کو نقل (Copy) کرنے کے بجائے اپنا منفرد ماڈل تخلیق کیا۔

ناکامی سے کامیابی کا سبق: چی جیانگ پنگ نے بتایا کہ ان کا پہلا پروٹوٹائپ چھ ماہ کی محنت کے بعد تیار ہوا تھا، جو ابتدائی آزمائش میں ناکام رہا۔ تاہم، انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے اس ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ “براہِ راست نقل کرنے سے سیکھنے کا عمل محدود ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کو ترجیح دی۔”

آج کل یہ باصلاحیت طالب علم اپنے جیٹ انجن کے ایک جدید اور بہتر ورژن پر کام کر رہا ہے، جس کی آئندہ آزمائش جلد متوقع ہے۔ سائنسی حلقے اسے چین کے مستقبل کے ہوا بازی کے شعبے کے لیے ایک اہم اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔