LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان

چین میں 14 سالہ لڑکے کا حیران کن کارنامہ

Web Desk

27 April 2026

چین سے تعلق رکھنے والے ایک 14 سالہ طالب علم، چی جیانگ پنگ نے اپنی غیر معمولی تکنیکی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک فعال ٹربو جیٹ انجن تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سائنسی کامیابی نے نہ صرف سوشل میڈیا پر دھوم مچائی ہے بلکہ ہوا بازی کے ماہرین کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔

کاغذی جہازوں سے جیٹ انجن تک کا سفر: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چی جیانگ پنگ کی ہوا بازی (Aviation) میں دلچسپی بچپن میں کاغذی جہازوں کے اڑانے اور ہوا کے اصولوں کو سمجھنے سے شروع ہوئی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کئی گھنٹے ایروڈائنامکس کی پیچیدہ کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے، جس نے ان کے سائنسی تجسس کو ایک نئی سمت دی۔

تکنیکی مہارت اور ڈیزائننگ: اس کم عمر سائنسدان نے محض مطالعہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جدید انجینئرنگ ٹولز پر بھی دسترس حاصل کی:

  • سافٹ ویئر کا استعمال: انہوں نے کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن (CAD) سافٹ ویئرز سیکھے تاکہ انجن کے دو بعدی (2D) اور تین بعدی (3D) ماڈلز خود تیار کر سکیں۔

  • انجینئرنگ تجزیہ: ہوا کے دباؤ اور درجہ حرارت جیسے پیچیدہ عوامل کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اپنے منصوبے کا خاکہ تیار کیا۔

  • تخلیقی سوچ: چی جیانگ پنگ کے مطابق، انہوں نے انٹرنیٹ سے رہنمائی ضرور لی لیکن کسی بھی ڈیزائن کو نقل (Copy) کرنے کے بجائے اپنا منفرد ماڈل تخلیق کیا۔

ناکامی سے کامیابی کا سبق: چی جیانگ پنگ نے بتایا کہ ان کا پہلا پروٹوٹائپ چھ ماہ کی محنت کے بعد تیار ہوا تھا، جو ابتدائی آزمائش میں ناکام رہا۔ تاہم، انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے اس ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ “براہِ راست نقل کرنے سے سیکھنے کا عمل محدود ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کو ترجیح دی۔”

آج کل یہ باصلاحیت طالب علم اپنے جیٹ انجن کے ایک جدید اور بہتر ورژن پر کام کر رہا ہے، جس کی آئندہ آزمائش جلد متوقع ہے۔ سائنسی حلقے اسے چین کے مستقبل کے ہوا بازی کے شعبے کے لیے ایک اہم اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔