LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 77 ہزار پوائنٹس کی حد بحال صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر 3سمریوں کی منظوری دے دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس،ترجمان دفتر خارجہ

Web Desk

25 April 2026

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری امن مشن اور پاکستان کے کلیدی کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے سہولت کاری فراہم کرنے کے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔

اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان خطے کے وسیع تر مفاد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں مسلسل جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حساس سفارتی عمل کے حوالے سے صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ بیانات ہی پاکستان کی اصل پالیسی اور موقف کے عکاس ہیں۔

نائب وزیراعظم نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے نام حکام یا نامعلوم ذرائع سے منسوب خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی رپورٹس پاکستان کے سرکاری موقف کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو تاکید کی کہ وہ اس حساس معاملے پر قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں اور صرف مستند سرکاری بیانات پر توجہ دیں تاکہ امن کی کوششوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔