LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کا پارلیمانی نشست چھوڑنے کا فیصلہ ٹرمپ نے ایران پر ایٹمی حملے کا سوال احمقانہ قرار دے کر مسترد کردیا او جی ڈی سی اور امریکی انرجی ٹیکنالوجی کمپنی کے درمیان معاہدہ طے اسحاق ڈار کی ایس سی او سیکرٹری جنرل سے ملاقات، پاکستان کی صدارت پر مبارکباد وزیراعظم کی صدر بیلاروس سے ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوت دے دی ملک حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ڈوب رہا ہے: حافظ نعیم الرحمان ڈنمارک نے دمشق میں 14 سال بعد سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار شہید عدالتی فیصلے خوش آئند ہیں، تناؤ کے خاتمے اور بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے سیاسی ڈائیلاگ ضروری ہے: بیرسٹر گوہر پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس،ترجمان دفتر خارجہ

Web Desk

25 April 2026

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری امن مشن اور پاکستان کے کلیدی کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے سہولت کاری فراہم کرنے کے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔

اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان خطے کے وسیع تر مفاد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں مسلسل جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حساس سفارتی عمل کے حوالے سے صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ بیانات ہی پاکستان کی اصل پالیسی اور موقف کے عکاس ہیں۔

نائب وزیراعظم نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے نام حکام یا نامعلوم ذرائع سے منسوب خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی رپورٹس پاکستان کے سرکاری موقف کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو تاکید کی کہ وہ اس حساس معاملے پر قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں اور صرف مستند سرکاری بیانات پر توجہ دیں تاکہ امن کی کوششوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔