LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

نشہ آور شے کا استعمال، ٹیسٹ مثبت آنے پر محمد نواز کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

Web Desk

23 April 2026

بلوچستان کے ضلع چاغی میں دالبندین کے قریب سرحدی علاقے دریگون میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک نجی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے 10 افراد کو ہلاک اور 5 کو زخمی کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ پاک افغان سرحد کے قریب اس مقام پر ہوا جہاں ‘این آر ایل’ نامی کمپنی تانبے اور سونے کی تلاش کے منصوبے پر کام کر رہی تھی۔

حملہ آوروں نے شام تقریباً 6 بجے اچانک فائرنگ شروع کی اور وہاں موجود تیل کے ذخیرے کو آگ لگا دی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق دالبندین کے پرنس فہد اسپتال میں اب تک 10 لاشیں منتقل کی جا چکی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک ترک باشندہ بھی شامل ہے، جبکہ دیگر میں دو مقامی حفاظتی اہلکار اور ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ورکرز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 6 افراد آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق ہوئے جبکہ 4 افراد فائرنگ کا نشانہ بنے۔

واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سرکاری حکام نے حملے کی تصدیق کی ہے تاہم سکیورٹی کلیئرنس مکمل ہونے تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس ہولناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور سکیورٹی کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔