LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 6600 پوائنٹس کی کمی

Web Desk

13 April 2026

امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان اور اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پر انتہائی منفی انداز میں مرتب ہوئے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز سرمایہ کاروں میں شدید بے یقینی پھیلی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای (KSE) 100 انڈیکس میں ریکارڈ 6600 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس شدید مندی کے بعد ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 67 ہزار 191 کی سطح سے گر کر ایک لاکھ 60 ہزار 591 پوائنٹس پر بند ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہونے اور تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات نے مقامی سرمایہ کاروں کو حصص کی فروخت پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی اس جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں رہیں۔ جنوبی کوریا کا کوسپی (Kospi) انڈیکس 2.08 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جاپان کے نکی (Nikkei) انڈیکس اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ (Hang Seng) انڈیکس میں بھی ایک فیصد سے زائد کی مندی ریکارڈ کی گئی۔ چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس بھی اس لہر سے محفوظ نہ رہ سکا اور وہاں بھی مندی کا رجحان غالب رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سرمایہ کاروں نے ہائی رسک اثاثوں سے سرمایہ نکال کر سونے جیسی محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان بحری ناکہ بندی کا معاملہ طول پکڑتا ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے، جو اسٹاک مارکیٹس کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔ پاکستان کے لیے خاص طور پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہیں۔ فی الحال مارکیٹ میں استحکام کے آثار نظر نہیں آ رہے اور سرمایہ کار ‘دیکھو اور انتظار کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ سب کی نظریں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی مزید خبروں پر ٹکی ہیں۔