LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی اور خوراک مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پرانے ملازمین قومی ایئرلائن کا سرمایہ ہیں، ادارہ انہیں دھتکار کر نہ رکھے: عدالت بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کا روٹ توڑنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے تہران گئے، کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا: خواجہ آصف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز کی ملاقات: محمود خان اچکزئی کی علامہ راجہ ناصر عباس سے سیاسی صورتحال پر گفتگو امریکا اور اسرائیل ایران پر بڑے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں: امریکی میڈیا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 6600 پوائنٹس کی کمی

Web Desk

13 April 2026

امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان اور اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پر انتہائی منفی انداز میں مرتب ہوئے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز سرمایہ کاروں میں شدید بے یقینی پھیلی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای (KSE) 100 انڈیکس میں ریکارڈ 6600 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس شدید مندی کے بعد ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 67 ہزار 191 کی سطح سے گر کر ایک لاکھ 60 ہزار 591 پوائنٹس پر بند ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہونے اور تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات نے مقامی سرمایہ کاروں کو حصص کی فروخت پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی اس جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں رہیں۔ جنوبی کوریا کا کوسپی (Kospi) انڈیکس 2.08 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جاپان کے نکی (Nikkei) انڈیکس اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ (Hang Seng) انڈیکس میں بھی ایک فیصد سے زائد کی مندی ریکارڈ کی گئی۔ چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس بھی اس لہر سے محفوظ نہ رہ سکا اور وہاں بھی مندی کا رجحان غالب رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سرمایہ کاروں نے ہائی رسک اثاثوں سے سرمایہ نکال کر سونے جیسی محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان بحری ناکہ بندی کا معاملہ طول پکڑتا ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے، جو اسٹاک مارکیٹس کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔ پاکستان کے لیے خاص طور پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہیں۔ فی الحال مارکیٹ میں استحکام کے آثار نظر نہیں آ رہے اور سرمایہ کار ‘دیکھو اور انتظار کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ سب کی نظریں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی مزید خبروں پر ٹکی ہیں۔