LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

آصفہ بھٹو کی ملک گیر پولیو مہم میں عوام سے تعاون کی اپیل

Web Desk

13 April 2026

خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے 13 اپریل سے شروع ہونے والی ملک گیر پولیو مہم کے حوالے سے قوم کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے والدین اور عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کی ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے جاری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو وائرس سے محفوظ بنانا ہے، جو کہ پولیو کے خاتمے کی قومی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ آصفہ بھٹو کے مطابق، پاکستان اس وائرس کے خلاف جنگ میں آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اب ہر بچے تک رسائی حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

اس مہم کے تحت، جو 13 سے 19 اپریل تک جاری رہے گی، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلائیں گے۔ خاتونِ اول نے بتایا کہ اس بار پولیو ویکسین کے ساتھ بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی دیے جائیں گے تاکہ ان کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہو سکے۔ اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 میں پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026 میں اب تک صرف ایک کیس سامنے آیا ہے، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم وائرس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

آصفہ بھٹو نے سرحد پار وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے افغانستان کے ساتھ مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے علاقائی تعاون کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔ انہوں نے فرنٹ لائن ورکرز کی قربانیوں اور محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہونے کے قریب ہے، لیکن اس کی کامیابی کا تمام تر دارومدار والدین کی ذمہ داری اور اداروں کے اشتراکِ عمل پر ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی معمول کی ویکسینیشن بھی مکمل کروائیں تاکہ وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔